بدین میں733مبینہ جعلی آرڈرز مسترد،ڈپٹی کمشنرسمیت افسران کے تبادلے

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے) گریڈ ایک سے چار کی آسامیوں پر مبینہ جعلی بھرتیوں اور بے روزگار نوجوانوں سے جعلی تقرری آرڈرز کے عوض کروڑوں روپے رشوت لینے کے انکشافات کے بعد بدین میں ضلعی انتظامیہ، محکمہ تعلیم کے افسران اور پیپلز پارٹی سے وابستہ شخصیات و منتخب نمائندوں کے درمیان اختلافات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق 733 مبینہ جعلی تقرری آرڈرز مسترد کیے جانے کے بعد معاملہ مزید سنگین ہوگیا، جس کے بعد پہلے محکمہ تعلیم کے دو ضلعی افسران، سیکنڈری و ایلیمنٹری اسکولز اور پرائمری اسکولز کے افسران کو 90 روز کے لیے چارج چھوڑ کر سیکریٹری تعلیم کے پاس رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ذرائع کے مطابق گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر بدین حاجی یاسر بھٹی کا بھی تبادلہ کردیا گیا اور انہیں لاڑکانہ میں 600 بستروں پر مشتمل اسپتال کے منصوبے کا پروجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کردیا گیا ہے۔ان کی جگہ ڈپٹی سیکریٹری فنانس مس زہرا زاہد کو ڈپٹی کمشنر بدین تعینات کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مس زہرا زاہد اس سے قبل اسسٹنٹ کمشنر ماتلی کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔پیپلز پارٹی سے وابستہ اور سرکاری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مختلف سرکاری محکموں میں گریڈ ایک سے چار کی آسامیوں پر مبینہ جعلی بھرتیوں، جعلی تقرری آرڈرز اور بے روزگار نوجوانوں سے بھاری رقوم وصول کرنے کے معاملے میں سرکاری افسران سمیت پیپلز پارٹی کے بعض عہدیداروں، منتخب نمائندوں کے قریبی افراد اور فوکل پرسنز کے نام بھی سامنے آئے تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملے پر پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات بھی کرائی تھیں، جن میں مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی۔ تاہم ڈپٹی کمشنر اور محکمہ تعلیم کے افسران کے محض تبادلوں سے معاملے پر مزید سوالات اٹھ رہے ہیں۔دوسری جانب جعلی تقرری آرڈرز کے ذریعے مبینہ طور پر بھرتی کیے جانے اور بعد ازاں ملازمتوں سے برطرف کیے جانے والے بدین کے متعدد نوجوانوں نے سندھ ہائی کورٹ کے سرکٹ بینچ حیدرآباد سے بھی رجوع کرلیا ہے اور اس حوالے سے پٹیشنز دائر کردی گئی ہیں۔مبینہ جعلی بھرتیوں اور رشوت کے الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق ہونا ابھی باقی ہے، جبکہ معاملے میں نامزد یا جن افراد کی جانب اشارہ کیا گیا ہے، ان کا مؤقف سامنے آنے کی صورت میں اسے بھی شامل کیا جائے گا۔



