توانائی کی عالمی ترجیحات تبدیل، متبادل ذرائع کی طرف رجحان بڑھنے لگا،چین یہاں بھی بازی لےگیا

لندن(جانوڈاٹ پی کے)آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے اور امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد عالمی تیل و گیس کی ترسیل بحال ہونے کے حوالے سے شدید غیر یقینی کی صورتحال پائی جارہی ہے جس کے نتیجے میں دنیا اپنی توانائی کی ترجیحات کو تبدیل کر رہی ہے۔
عام طور پر دنیا کی تیل و گیس کی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، یہ ترسیل جو روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تک ہوتی تھی ایک ماہ قبل امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد تقریباً مکمل طور پر رک گئی۔
اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتیں یکدم آسمان کو چھونے لگیں، جس کے شدید اثرات خاص طور پر ایشیا اور ان ترقی پذیر ممالک پر پڑے جو توانائی کی درآمدات پر زیادہ انحصار کرتے ہیں اور عالمی مارکیٹ کے جھٹکوں کو برداشت کرنے کی کم صلاحیت رکھتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہےکہ اس تاریخی خلل کے اثرات عالمی توانائی کے شعبے پر طویل عرصے تک جاری رہیں گے اور ممکن ہے کہ عالمی توانائی کا منظرنامہ اب کبھی پہلے جیسا نہ رہے۔
تیل اور توانائی کے حوالے سے معروف ویب سائٹ آئل پرائس ڈاٹ کام کے مطابق ایسی غیر یقینی صورتحال میں دنیا میں تیل کی جگہ توانائی کے دیگر ذرائع کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے اور توانائی کے تحفظ اور استحکام کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق سالہا سال سے صاف توانائی کو ایک اخلاقی ذمہ داری کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے مگر اب یہ ایک معاشی اور جغرافیائی سیاسی ضرورت بن چکی ہے، کیونکہ اب بات صرف ماحولیاتی آدلودگی کی نہیں بلکہ استحکام اور قیمتوں میں توازن کی ہے۔



