لاڑکانہ،ماں بیٹی کو قتل کرکے لاشیں دریامیں پھینک دیں،شواہد مٹانے کیلئے گھر جلادیا

لاڑکانہ(رپورٹ:احسان جونیجو/نمائندہ جانو ڈاٹ پی کے) لاڑکانہ کی تحصیل باقرانی کے گاؤں شادن جتوئی میں 45 سالہ شاہدہ جتوئی اور اس کی 18 سالہ بیٹی نغمہ جتوئی کو شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا، ملزمان نے لاشوں کو دریا میں پھینک دیا اور واقعے کے شواہد مٹانے کے لیے گھر کو آگ لگا دی، خواتین کی شادی سے متعلق مرضی کو نام نہاد غیرت کے نام پر مسخ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے.
ذرائع کے مطابق پولیس پر بھی مقدمے کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے، بتایا گیا ہے کہ الٰہی بخش سیال تھانے کے بعض اہلکاروں نے مبینہ طور پر ملزمان سے رشوت لے کر ایف آئی آر کو ایک معمولی گھریلو تنازع کا رنگ دیا، قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے کیس میں قریبی خاتون رشتہ دار کو مدعی بنایا گیا اور واقعے کو خاندانی جھگڑا ظاہر کیا گیا جس سے ملزمان کے بچ نکلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، مقتولہ نغمہ جتوئی کے لیے سعودی عرب میں مقیم ایک شخص کی جانب سے شادی کا رشتہ طے پایا تھا جسے ماں اور بیٹی نے قبول کیا تھا تاہم بااثر افراد نے اس رشتے کی مخالفت کرتے ہوئے دونوں کو کاری قرار دیا اور قتل کر دیا، واقعے کے بعد سندھ بھر میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا پر شفاف تحقیقات اور فوری انصاف کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، آئی جی سندھ سے اپیل کی گئی ہے کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے تمام ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، واضح رہے کہ چند روز قبل تھانہ الٰہی بخش سیال کی حدود میں شادی کے تنازع پر ماں بیٹی کو بے دردی سے قتل کر کے لاشیں دریا میں پھینکی گئی تھیں جنہیں تیرتے دیکھ کر دیہاتیوں نے پولیس کو اطلاع دی جنہیں باہر نکال کر اجرک اوڑھے گئے.



