سندھ میں آٹے کا بحران شدت اختیار کر گیا، قیمت 120 روپے فی کلو تک پہنچ گئی

ماتلی(رپورٹ ایم ار گدی/جانو/ڈاٹ/پی/کام) سندھ بھر میں آٹے اور گندم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوام کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے جبکہ ماہرین، فلور ملز مالکان اور تاجر حلقوں نے صورتحال کو سندھ حکومت کی ناقص پالیسی، بدانتظامی اور گندم خریداری میں عدم دلچسپی کا نتیجہ قرار دے دیا ہے۔ صوبے کے مختلف شہروں میں آٹے کی قیمت میں حالیہ دنوں کے دوران تقریباً 10 روپے فی کلو اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور ایکس مل آٹے کا ریٹ 120 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو رواں سیزن کے اختتام تک آٹا 140 روپے فی کلو کی سطح عبور کر سکتا ہے۔ میڈیا رپورٹس اور مارکیٹ تجزیوں کے مطابق ماضی میں سندھ حکومت ہر سال گندم کی سرکاری خریداری کر کے اپنے ذخائر مکمل کرتی تھی اور نجی شعبے کو بڑے پیمانے پر خریداری سے روکا جاتا تھا جس کے باعث گندم کی قیمتیں قابو میں رہتی تھیں، بعد ازاں حکومت اپنے سرکاری گوداموں سے سال کے آخری مہینوں میں فلور ملز اور آٹا چکی مالکان کو کنٹرول ریٹ پر گندم فراہم کرتی تھی جس سے آٹے کی قیمتوں میں استحکام برقرار رہتا تھا، تاہم رواں برس سندھ حکومت کی جانب سے گندم خریداری میں غیر معمولی سست روی اور عدم دلچسپی کے باعث نجی شعبے نے بڑے پیمانے پر گندم کی خریداری شروع کر دی ہے جس سے ذخیرہ اندوزی میں اضافہ اور اوپن مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ فلور ملز مالکان کا کہنا ہے کہ سیزن کے آغاز میں ہی گندم کی قیمتیں خطرناک حد تک بڑھ چکی ہیں، ایسے میں آنے والے آٹھ ماہ کے دوران صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اگر فوری طور پر مارکیٹ میں مداخلت نہ کرے تو نہ صرف آٹا مزید مہنگا ہوگا بلکہ غریب اور متوسط طبقے کیلئے بنیادی خوراک کا حصول بھی مشکل ہو جائے گا۔ دوسری جانب شہری حلقوں نے سندھ حکومت کی گورننس پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ماضی میں سرکاری گوداموں سے فلور ملز کو فراہم کی جانے والی گندم کے معیار پر مسلسل اعتراضات سامنے آتے رہے اور مل مالکان کی جانب سے یہ شکایات بھی کی جاتی رہیں کہ بعض اوقات گندم کی بوریوں میں 10 سے 15 کلو تک مٹی اور ناقص مواد شامل ہوتا تھا جس سے نہ صرف آٹے کا معیار متاثر ہوتا تھا۔

مزید خبریں

Back to top button