ایوان اقتدارمیں زلزلہ:”بلا”واپس لوٹ آیا،نئے سیاسی طوفان کی پیشنگوئی!

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں شدید سیاسی ہلچل اور ڈرامائی موڑ سامنے آئے ہیں، جس کے بعد ملک کا سیاسی درجہ حرارت اچانک انتہائی حد تک بڑھ گیا ہے۔ ایوان میں اس وقت سنسنی خیز صورتحال پیدا ہو گئی جب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت اور اتحادی وزراء پر تندوتیز جملوں کے تیر برساتے ہوئے شدید ترین تنقید کی اور ازاد کشمیر کے حساس حالات پر وفاقی ٹیم کی کارکردگی کو آڑے ہاتھوں لیا۔ دوسری جانب، وزیراعظم شہباز شریف نے غیر متوقع طور پر خود چل کر اپوزیشن بینچوں کا رخ کیا اور مولانا فضل الرحمن سمیت محمود خان اچکزئی سے اہم ملاقاتیں کیں، جس کے دوران لگنے والے قہقہوں اور "قبر میں جانے والے رازوں” کے تذکرے نے نئی صف بندیوں کی افواہوں کو جنم دے دیا ہے۔ اسی ہنگامے کے دوران ازاد کشمیر کی سپریم کورٹ سے تحریک انصاف کے حق میں "بلے” کا انتخابی نشان بحال کرنے کا ایک ایسا بڑا اور سنسنی خیز فیصلہ سامنے آیا ہے جس نے سیاسی پنڈتوں کو حیران کر دیا ہے۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان میں بڑی سیاسی تبدیلیوں کا مڈبھیڑ ہمیشہ ازاد کشمیر یا بلوچستان سے شروع ہوتا ہے، اور اب "بلے” کی واپسی نے تحریک انصاف کی اقتدار کے ایوانوں میں واپسی کا سفر تیز کر دیا ہے جس سے حکومتی صفوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ وفاقی وزراء کے متنازع بیانات، ایم کیو ایم کو کابینہ چھوڑنے کے مشورے اور اپوزیشن کے بڑھتے رابطوں نے ملک میں ایک نئے بڑے سیاسی دھماکے کی بنیاد رکھ دی ہے۔ شکیل ملک کی اس سنسنی خیز اور مکمل تجزیاتی رپورٹ کو دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے پورا وی لاگ لازمی دیکھیں۔




