کائنات میں حیران کن دریافت، سائنسدانوں کا ’بلیک ہول اسٹار‘ دریافت کرنے کا دعویٰ

نیویارک (ویب ڈیسک) سائنسدانوں نے ایک حیران کن کائناتی مظہر دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو بیک وقت بلیک ہول اور ستارے جیسا دکھائی دیتا ہے اور انتہائی روشن سرخ روشنی خارج کر رہا ہے۔
بین الاقوامی ماہرین کی ٹیم نے یہ دریافت ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے حاصل ہونے والی تصاویر کی مدد سے کی، جن میں کائنات کے ایک دور دراز حصے میں پراسرار سرخ روشنی نظر آئی۔
محققین کے مطابق یہ مظہر برج قیطس (Cetus) میں زمین سے اربوں نوری برس کے فاصلے پر موجود ہے اور ممکنہ طور پر بگ بینگ کے تقریباً 66 کروڑ سال بعد وجود میں آیا۔
سائنسدانوں نے اس پراسرار سرخ مظہر کو مام بی ایچ 1 (MAM-BH1) کا نام دیا ہے۔ تحقیق کے مطابق اس کا حجم ہمارے نظام شمسی کے لگ بھگ ہے، تاہم یہ کسی عام ستارے کے مقابلے میں تقریباً 100 ارب گنا زیادہ توانائی خارج کرتا دکھائی دیتا ہے۔
تحقیقی ٹیم میں شامل میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کے سائنسدان روہن نائیڈو کے مطابق یہ ایک بالکل نئی قسم کا کائناتی مظہر ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی توانائی بلیک ہولز سے منسلک خصوصیات ظاہر کرتی ہے، جبکہ اس کی کچھ نشانیاں ستاروں سے مشابہ ہیں۔
محققین کے مطابق جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے دور دراز کہکشاؤں کے مشاہدے کے دوران ایک کہکشاں مام زی 14 کی دریافت کے بعد اس نوعیت کے مظاہر پر خصوصی توجہ مرکوز ہوئی۔
جرنل نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اس مظہر کی سرخ روشنی اور مخصوص ویو لینتھ پر اس کا غائب ہونا انتہائی غیر معمولی ہے۔ کمپیوٹر سمولیشنز سے بھی اشارہ ملا کہ یہ کسی انتہائی بڑے ستارے کے بجائے ستارے کی طرح روشن بلیک ہول ہوسکتا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ نظریہ درست ثابت ہوا تو کائنات میں نظر آنے والے دیگر پراسرار سرخ نقطوں میں سے کچھ بھی اسی نوعیت کے بلیک ہول اسٹارز ہوسکتے ہیں۔
روہن نائیڈو کے مطابق ایسے بلیک ہول اسٹارز ابتدائی کائنات میں کہکشاؤں کے ارتقا میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔



