لاہور ہائیکورٹ کا ماحولیات اور پانی کی بچت پر تاریخی فیصلہ جاری

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے ماحولیاتی تحفظ، زیرِ زمین پانی کی حفاظت اور پانی کے مؤثر استعمال سے متعلق کیس کا 288 صفحات پر مشتمل اہم فیصلہ جاری کردیا۔ جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون فاروق کی درخواست پر فیصلہ سنایا، جسے عدالتی نظیر قرار دیا جارہا ہے۔

فیصلے کے مطابق عدالتی اقدامات کے نتیجے میں گزشتہ 5 سال سے لاہور میں زیرِ زمین پانی کی سطح مستحکم رہی اور اس میں مزید کمی رک گئی۔ لاہور کے 563 سروس اسٹیشنز پر واٹر ری سائیکلنگ پلانٹس فعال کیے گئے، جس سے فی گاڑی تقریباً 280 لیٹر پانی کی بچت ہوئی۔

عدالت نے 10 مرلہ اور ایک کنال سے بڑے گھروں میں گرے واٹر ری سائیکلنگ پلانٹ لازمی قرار دیا، جبکہ پنجاب بھر میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے بغیر تجارتی عمارت کا نقشہ منظور نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

فیصلے کے مطابق روئل پام اور لاہور جمخانہ کے گولف کورسز کی آبیاری کے لیے زیرِ زمین پانی کا استعمال بند کردیا گیا۔ داتا دربار سمیت پنجاب کی 194 مساجد میں وضو واٹر ری سائیکلنگ ٹینکس فعال کیے گئے ہیں۔ داتا دربار کے پلانٹ سے روزانہ تقریباً 70 ہزار گیلن وضو کا پانی پارکس کے لیے محفوظ کیا جاتا ہے۔

لاہور کینال کے 35 سال سے بند 19 نہری کھالے بحال کیے گئے، جس کے بعد اہم پارکس کو نہری پانی کی فراہمی شروع ہوگئی۔ گورنر ہاؤس، ایچیسن کالج، باغ جناح اور ماڈل ٹاؤن پارکس کی آبیاری بھی نہری پانی سے کی جائے گی۔

عدالت کے مطابق زیرِ زمین پانی نکالنے پر ’صارف ادا کرے‘ پالیسی کے تحت 2018 سے اب تک 3.35 ارب روپے سے زائد وصول کیے جاچکے ہیں۔ قذافی اسٹیڈیم میں 40 لاکھ گیلن گنجائش کا لاہور کا سب سے بڑا واٹر اسٹوریج ٹینک فعال کیا گیا، جبکہ والٹن روڈ سی بی ڈی پنجاب میں 50 لاکھ گیلن بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کی جھیل قائم کی گئی ہے۔

الحمرا، شیرانوالہ گیٹ اور لارنس روڈ پر ملین گیلن گنجائش کے رین واٹر ہارویسٹنگ ٹینکس مکمل کیے گئے، جبکہ زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر بنانے کے لیے پنجاب بھر میں 117 جدید واٹر ریچارج ویلز تیار کیے گئے ہیں۔

فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے بھی اہم اقدامات

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ لاہور میں مقامی فضائی آلودگی کا 83 فیصد حصہ گاڑیوں کے زہریلے دھویں سے پیدا ہوتا ہے۔ پنجاب بھر کے تمام اینٹوں کے بھٹوں کو ماحول دوست زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیا گیا ہے۔

پرانے ٹائروں سے زہریلا ایندھن بنانے والے تمام پلانٹس مسمار کیے جاچکے ہیں، جبکہ لاہور اور گردونواح کے صنعتی یونٹس میں دھویں کو کنٹرول کرنے کے لیے ڈرائی اسکربرز نصب کیے گئے ہیں۔

پنجاب کی 101 بڑی صنعتوں اور 36 شوگر ملز میں ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس فعال کیے گئے، جبکہ زیرِ زمین پانی میں زہریلا پانی چھوڑنے والے 400 سے زائد غیر قانونی سوک پٹس بند کردیئے گئے ہیں۔

درختوں اور پلاسٹک کے تحفظ سے متعلق بھی احکامات

عدالت نے درختوں کے تحفظ کے لیے پی ایچ اے کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی درخت کی کٹائی سے قبل تمام سرکاری محکمے پیشگی این او سی حاصل کریں۔

کینال یلو لائن منصوبے کے تحت لاہور نہر کے ساتھ 1400 قدآور درختوں کی کٹائی پر مستقل پابندی عائد کردی گئی ہے۔ نورپور تھل منصوبے میں عدالتی مداخلت سے 11 ہزار درخت کٹنے سے بچ گئے جبکہ مزید 13 ہزار درخت لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

فیصلے میں پنجاب بھر میں عام پلاسٹک بیگز پر پابندی اور بائیو ڈیگریڈیبل تھیلوں کے استعمال کو یقینی بنانے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

گھروں اور کاروباری مراکز میں واٹر میٹرز لازمی

واسا لاہور نے جوہر ٹاؤن میں پائلٹ پروجیکٹ کے تحت 13 ہزار اسمارٹ واٹر میٹرز نصب کیے ہیں، جبکہ واٹر میٹرز کی تنصیب کے لیے 500 ملین روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔

عدالت کے مطابق پنجاب کی تمام تجارتی اور گھریلو عمارتوں پر مرحلہ وار واٹر میٹرز نصب کیے جائیں گے۔

لاہور ہائیکورٹ نے انتظامیہ کو ماحولیاتی قوانین پر بلاامتیاز اور سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے قرار دیا کہ یہ فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں مفادِ عامہ کا طویل ترین فیصلہ قرار دیا گیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button