دونوں بازوؤں سے محروم شخص پر پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کا الزام، عدالت نے مقدمے سے ڈسچارج کردیا

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) پولیس نے احتجاج کے دوران اہلکاروں پر پتھراؤ اور ڈنڈے برسانے کے الزام میں ایک ایسے شخص کو گرفتار کرلیا جس کے دونوں بازو موجود نہیں تھے، تاہم عدالت میں جسمانی معائنے کے بعد ملزم کو مقدمے سے ڈسچارج کردیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تھانہ کرپا میں درج مقدمے میں پولیس نے الزام عائد کیا تھا کہ لطیف اللہ سدوزئی نے 5 اگست کو ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا اور ڈنڈے برسائے۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے عدالت سے تین روزہ جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کیا تھا۔
ملزم کو دوبارہ ڈیوٹی مجسٹریٹ رضوان الدین کی عدالت میں پیش کیا گیا تو وکیل سردار معروف ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل کے دونوں بازو موجود نہیں، اس لیے پولیس اہلکاروں پر پتھر مارنے اور ڈنڈے برسانے کا الزام قابلِ سوال ہے۔
دوران سماعت عدالت نے ملزم کے دونوں بازوؤں کا جسمانی معائنہ کیا، جس کے بعد اسے مذکورہ مقدمے سے ڈسچارج کردیا گیا۔
لطیف اللہ سدوزئی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ وہ 5 اگست کے احتجاج کے بعد تلہ گنگ واپس جارہے تھے کہ پولیس نے ان کی گاڑی روک کر تلاشی لی اور گاڑی میں موجود دیگر افراد کے ساتھ انہیں بھی گرفتار کرلیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ان کے دونوں بازو ہی موجود نہیں تو وہ پولیس پر پتھراؤ کیسے کرسکتے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس اہلکاروں کو بھی بارہا بتایا کہ وہ بازوؤں سے محروم ہیں اور ان پر عائد الزام ممکن نہیں، تاہم ان کی بات نہیں سنی گئی اور تین روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا گیا۔
بعد ازاں عدالت میں جسمانی معائنے کے بعد انہیں مقدمے سے ڈسچارج کردیا گیا۔



