مشرقِ وسطیٰ میں بڑا جیو پولیٹیکل زلزلہ،سعودی عرب اور یو اے ای آمنے؟

​جدہ(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی نقشے پر ایک ایسی لکیر کھنچ گئی ہے جس نے برسوں پرانے اتحادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات (UAE) نے پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم ‘اوپیک’ اور ‘اوپیک پلس’ سے علیحدگی کا حیران کن اعلان کر دیا ہے، جسے ماہرین محض معاشی فیصلہ نہیں بلکہ سعودی عرب کی قیادت کو براہِ راست چیلنج قرار دے رہے ہیں۔ جدہ میں ہونے والے جی سی سی (GCC) اجلاس کے دوران اس فیصلے پر سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک نے گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے، جبکہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

​ مشرقِ وسطیٰ اب دو واضح بلاکس میں تقسیم ہو چکا ہے۔ ایک طرف اسرائیل، بھارت اور متحدہ عرب امارات کا مثلث ہے جسے امریکہ کی مکمل سرپرستی حاصل ہے، جبکہ دوسری طرف سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ، قطر اور مصر ایک نئے دفاعی و اسٹریٹجک بلاک کی صورت میں ابھر رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کا اوپیک سے نکلنا اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ اب اپنی تیل کی پیداوار بڑھا کر عالمی منڈی میں سعودی اثر و رسوخ کو کم کرنا چاہتا ہے۔ اگرچہ اماراتی حکام اسے قومی مفاد قرار دے رہے ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ اماراتی معیشت کا 77 فیصد حصہ غیر تیل آمدنی پر مشتمل ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ قدم معاشی سے زیادہ سیاسی اور تزویراتی (Strategic) ہے۔

​اس نئی صف بندی کی سب سے اہم وجہ امریکہ کے دفاعی نظام پر عدم اعتماد ہے۔ جی سی سی ممالک اب یہ سمجھ رہے ہیں کہ امریکی دفاعی چھتری صرف اسرائیل کے تحفظ کے لیے ہے، نہ کہ عرب ممالک کے لیے۔ یہی وجہ ہے کہ قطر نے بھی پاکستان کے ساتھ ایک نئے دفاعی معاہدے کا ڈرافٹ تیار کر لیا ہے، جو سعودی عرب اور پاکستان کے مابین موجود ‘میوچل اسٹریٹجک ڈیفنس ایگریمنٹ’ جیسا ہی ہے۔ دوسری جانب، متحدہ عرب امارات نے یمن اور صومالیہ کے اہم بحری راستوں پر اسرائیل کی مدد سے اپنے انٹیلی جنس اڈے قائم کر لیے ہیں، جو خطے کے دیگر عرب ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ متحدہ عرب امارات، اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں براہِ راست شریک ہوگا۔

 

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button