کے پی حکومت کا دھڑن تختہ،سہیل آفریدی کی چھٹی قریب

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)وفاقی دارالحکومت کے سیاسی اور عدالتی حلقوں میں اس وقت ایک بڑا طوفان برپا ہے جہاں ایک طرف اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئرججز کے تبادلوں نے عدالتی نظام پر سوالیہ نشانات لگا دیے ہیں تو دوسری طرف خیبر پختونخوا کی حکومت گرنے کی خبروں نے تھرتھلی مچا دی ہے۔
باوثوق ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے حالیہ اجلاس میں جسٹس بابر ستار کے حوالے سے انتہائی سخت رویہ اپنایا گیا، جہاں پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے انہیں قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا، تاہم کمیشن نے کثرت رائے سے ان کا تبادلہ پشاور کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
قانونی ماہرین اسے جسٹس بابر ستار کی "ڈیموشن” قرار دے رہے ہیں کیونکہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینیئر جج سے اب پشاور ہائی کورٹ میں چھٹے نمبر پر چلے جائیں گے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی چھٹی کے آثار نمایاں ہو گئے ہیں، جہاں تحریک انصاف کے اندر سے ہی ان کے خلاف قانونی محاذ کھل گیا ہے۔شیر افضل مروت نے سہیل آفریدی کے انتخاب کو اس بنیاد پر چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ ان کی نامزدگی ایک سزا یافتہ قیدی (عمران خان) نے کی تھی، جو قانونی طور پر کسی کو نامزد کرنے کا اہل نہیں ہے۔




