” یو اے ای "مسلم دنیا کا ” اسرائیل”،پاکستان کیخلاف معاشی وار ناکام

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)پاکستان کی عدلیہ اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں اہم تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جن کے دور رس اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ جوڈیشل کمیشن کے حالیہ اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان ججوں کے تبادلے کر دیے گئے ہیں جنہوں نے ماضی میں حساس اداروں کے خلاف ‘انقلابی’ خطوط لکھے تھے۔ جسٹس محسن اختر کیانی کو لاہور ہائی کورٹ، جسٹس بابر ستار کو پشاور ہائی کورٹ اور جسٹس سمن رفعت امتیاز کو سندھ ہائی کورٹ منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ تبادلے عدلیہ کو سیاسی عناصر سے پاک کرنے کی ایک کوشش ہے، کیونکہ ان ججوں نے اپنے ائینی اختیار (توہینِ عدالت) کے بجائے سیاست کو ترجیح دی تھی۔ 27ویں ائینی ترمیم کے بعد اب ججوں کی تقرری اور تبادلوں کا نظام پارلیمنٹ کے زیرِ اثر آ چکا ہے، جس سے عدلیہ میں موجود بعض گروہوں کی ‘مرضی کی سیاست’ کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
بین الاقوامی محاذ پر متحدہ عرب امارات (UAE) کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات ہوئے ہیں۔ یو اے ای نے عین جنگ کے دوران پاکستان سے اپنے ساڑھے تین ارب ڈالر واپس مانگ کر اسلام آباد کو معاشی طور پر زک پہنچانے کی کوشش کی ہے، جسے اسرائیل کے ایما پر کیا گیا ایک اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے یہ رقم واپس کر کے یو اے ای کے ‘معاشی وار’ کو ناکام بنا دیا ہے۔ مزید برآں، یو اے ای نے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم ‘اوپیک’ سے بھی علیحدگی اختیار کر لی ہے تاکہ وہ آزادانہ طور پر اسرائیل اور امریکہ کے مفادات کے لیے کام کر سکے۔
تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ یو اے ای اب مسلم دنیا میں ایک ‘نیا اسرائیل’ بن کر ابھر رہا ہے جس نے یمن، صومالیہ اور لیبیا میں اسرائیل کے ساتھ مل کر اپنے انٹیلی جنس نیٹ ورکس قائم کر لیے ہیں۔ یہ بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یو اے ای آنے والے وقت میں پاکستانی محنت کشوں کے ویزے منسوخ کر کے انہیں ملک بدر کر دے گا تاکہ پاکستان پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔ ٹرمپ کے حالیہ بیان کے مطابق، ایران نے بھی امریکی قیادت کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ شدید معاشی بحران کا شکار ہے اور آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھولنا چاہتا ہے۔ خطے میں اب دو بڑے محاذ بن چکے ہیں: ایک طرف پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی اتحاد ہے، اور دوسری طرف اسرائیل اور یو اے ای کا گٹھ جوڑ۔




