ننگرپارکر میں پولیس کی کارروائی پرشہریوں نے تحفظات کا اظہار کردیا

تھرپارکر(ميندھرو کاجھروي/جانوڈاٹ پی کے)ننگرپارکر میں پولیس کی کارروائی پر شہریوں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ بڑے منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ایک غریب کیبن مالک کو گرفتار کر کے چالان کر دیا گیا۔گاؤں ڈینسی ننگرپارکر کے رہائشی واجد علی ولد غلام نبی کنبہار کو ننگرپارکر پولیس نے گزشتہ روز گرفتار کر کے اس کے خلاف سفینا شاشے کے بجائے سفینا ڈبوں کا مقدمہ درج کر دیا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ پولیس نے ایک معمولی شخص کے خلاف فوری کارروائی کی، جبکہ علاقے میں بڑے پیمانے پر منشیات کا کاروبار کرنے والے عناصر کھلے عام سرگرم ہیں۔ شہریوں نے الزام لگایا کہ بھوڈیسر گاؤں میں حسن بھٹی نامی شخص مبینہ طور پر سفینا، شراب اور دیگر منشیات کا کاروبار سرعام کر رہا ہے، مگر اس کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی۔ مقامی ذرائع کے مطابق وہ پورے تعلقے کے مختلف دیہات میں منشیات سپلائی کرتا ہے، جبکہ پولیس مبینہ طور پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق واجد علی نے سفینا پڑیاں کسی دوسرے کیبن سے خریدی تھیں، جو مبینہ طور پر حسن بھٹی سے منشیات نہیں لیتا تھا، جس کے باعث اسے نشانہ بنایا گیا۔ شہریوں نے سوال اٹھایا کہ تھانے سے تقریباً دس کلومیٹر دور مٹھی ننگرپارکر لنک روڈ پر واقع مقام پر پولیس کارروائی اتنی تیزی سے کیسے ممکن ہوئی؟ علاقہ مکینوں نے مزید شکایت کی کہ ننگرپارکر کی یوسی ہاڑہو میں دن دہاڑے چوریاں ہو رہی ہیں، مگر پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے گریزاں ہے، اور اگر مقدمہ درج ہو بھی جائے تو ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاتی۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ننگرپارکر میں پولیس کی کارکردگی، مبینہ جانبداری اور منشیات فروشوں کی سرپرستی کے الزامات کا نوٹس لے کر شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ عوام کو انصاف فراہم ہو سکے۔

مزید خبریں

Back to top button