پیپلزپارٹی نے پی آئی اے کی نجکاری کو غیر شفاف قراردیدیا

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نج کاری کے عمل کو غیرشفاف اور غیرقانونی قرار دیتے ہوئے وائٹ پیپر جاری کردیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے تینون بڑے ائیر پورٹ تمام آئیر لائنز کو دیے۔پی پی پی کے مرکزی رہنما اور انچارج پاکستان پیپلز لیبر بیورو چوہدری منظور احمد نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی اور پی آئی اے کی نج کاری کے حوالے سے وائٹ پیپر جاری کیا، جس میں نجکاری کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں۔
چوہدری منظور احمد نے کہا کہ حکومتی دستاویزات سے ہم ثابت کریں گے کہ پی آئی اے میں کتنا فراڈ ہوا، پی آئی اے کی فروخت سے متعلق مشترکہ مفادات کونسل سے اجازت نہیں لی گئی، پی آئی اے کی فروخت کے لیے پارلیمنٹ سے بھی منظوری نہیں لی گئی، 2023،2016 اور 1956 ایکٹ کے تحت پی آئی اے بنا۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری غیر قانونی ہے، پی آئی اے کے 34 جہاز بیچے گئے، چھوٹے جہاز 11 ارب میں خریدے گئے، پی آئی اے کے جہازوں کی قیمت کے بارے میں حکومت نے نہیں بتایا، 20 ارب سے زیادہ پشاور کا دفتر ہے، پی آئی اے کو 135 ارب میں فروخت کی جبکہ حکومت کو 10 ارب ملا، 6 ارب پی آئی اے کنسلٹنٹ کو دیا گیا۔
رہنما پی پی پی نے الزام عائد کیا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل غیر شفاف عمل ہے، ایف ایف سی حبیب رفیق کے خلاف بولی دے رہا تھا اس کو بھی کنشوریم میں شامل کرلیا گیا، بین الاقوامی پراپرٹی بھی فروخت کی گئی۔



