ایران کے اندرونی انتشار کا فائدہ دشمن اٹھانے لگا،امریکامعاشی جال لگا کر بیٹھ گیا

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)مشرق وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور پاکستان کے اندرونی سیاسی خلفشار کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ایران اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین معاشی اور اسٹریٹجک بحران کا شکار ہے، جہاں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی نے اس کی معیشت کی کمر توڑ دی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایک انتہائی سفاکانہ فیصلہ کرتے ہوئے ایران کے ساتھ کسی بھی فوری معاہدے سے انکار کر دیا ہے تاکہ ناکہ بندی کو طول دے کر تہران کو مکمل طور پر گھٹنوں پر لایا جا سکے، حالانکہ اس پالیسی کی وجہ سے خود امریکہ میں مہنگائی بڑھ رہی ہے اور ٹرمپ کی مقبولیت کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ دوسری جانب، ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی علالت کی خبروں نے بھی تہران میں بے یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے، اور ایران کے پاس اب فیصلے کے لیے محض چند دن باقی بچے ہیں۔

​پاکستان کے حوالے سے خوش آئند خبر یہ ہے کہ عالمی برادری، بشمول امریکہ اور ایران، خطے میں امن کے قیام کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی قیادت پر بھرپور اعتماد کر رہی ہے۔ پاکستان نے بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے ایران اور امریکہ کو بڑے ٹکراؤ سے روکنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ اسی دوران، پیپلز پارٹی کی سیاسی منظر نامے سے پراسرار گمشدگی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی ‘نو لفٹ’ کا شکار نہیں بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے تاکہ موجودہ معاشی بحران کا ملبہ ان پر نہ گرے اور وہ خود کو صرف ائینی عہدوں تک محدود رکھ کر اگلے مرحلے کا انتظار کریں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے ساتھ مکمل طور پر ‘آن بورڈ’ ہے اور انہوں نے ملکی مفاد میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی پوزیشن مضبوط رہے۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button