مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ سے پہلے امریکی ‘ایکٹ آف وار! ایران پر دباؤ کی ایک اور کوشش

اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز کی تجارتی ناکہ بندی (Blockade) شروع کر دی ہے۔ بین الاقوامی مبصرین اسے ‘ایکٹ آف وار’ قرار دے رہے ہیں، کیونکہ 1962 میں کیوبا کی ناکہ بندی کے بعد یہ اپنی نوعیت کا ایک بڑا فوجی اقدام ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 15 امریکی جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے چند سو کلومیٹر کے فاصلے پر پوزیشن سنبھال چکے ہیں، جس کا مقصد ایران کی سمندری تجارت کو مکمل طور پر مفلوج کرنا ہے۔ تاہم، اس ناکہ بندی کے باوجود ایک چینی جہاز سمیت تین تجارتی جہازوں کے وہاں سے گزرنے کی اطلاعات ہیں، جس پر امریکہ نے کوئی مداخلت نہیں کی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اس ناکہ بندی کے ذریعے ایران کو مذاکرات کی میز پر لا کر اپنی شرائط منوانا چاہتا ہے، خاص طور پر یورینیم کی افزودگی کے معاملے پر۔ امریکی مطالبہ ہے کہ ایران اگلے 20 سال تک یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر بند کر دے، جبکہ ایران پانچ سال کی رعایت چاہ رہا ہے۔ اس دوران پاکستان ایک بار پھر دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کے لیے اپنی خدمات پیش کر رہا ہے، لیکن امریکی رویہ اور ناکہ بندی جیسے اقدامات مذاکرات کی کامیابی پر سوالیہ نشان کھڑے کر رہے ہیں۔ چین نے امریکی اقدام کو ‘غیر ذمہ دارانہ’ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ خطے کو بڑی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ ایران اس وقت ایک مشکل صورتحال کا شکار ہے؛ ایک طرف ناکہ بندی کے ذریعے اس کا معاشی گلا گھونٹا جا رہا ہے اور دوسری طرف لبنان پر اسرائیلی حملے جاری ہیں، جس کا ایران کی جانب سے تاحال کوئی سخت جواب سامنے نہیں آیا۔ ماہرین کے مطابق، اگر ایران نے ایٹمی پروگرام اور دیگر دفاعی معاملات پر سمجھوتہ کر بھی لیا، تب بھی اسرائیل کی جانب سے لاحق خطرات کم نہیں ہوں گے۔ موجودہ سیلف فائر کی صورتحال میں امریکہ اور اسرائیل ایران کو کمزور پوزیشن میں لا کر اسے ‘لیبیا’ جیسی صورتحال سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان اہم دفاعی و سیاسی پہلوؤں کی مکمل تفصیلات اس لنک پر ملاحظہ کی جا سکتی ہیں:




