2سال بعدبھارتی وفد پاکستان پہنچ گیا، ایس سی او اجلاس میں اہم امور زیرغور

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارے کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی ایک سالہ صدارت کے دوران نیشنل کوآرڈینیٹرز کا اہم اجلاس شروع کردیا، جس میں آئندہ سال اسلام آباد میں ہونے والے ایس سی او سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا آغاز کیا جائے گا۔
تین روزہ اجلاس میں ایس سی او کے 10 رکن ممالک کے نیشنل کوآرڈینیٹرز شرکت کررہے ہیں، جو تنظیم کے اندر رکن ممالک کے درمیان رابطہ کاری اور تعاون کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اجلاس کے لیے دو سال بعد کسی بھارتی وفد کی پاکستان آمد بھی ہوئی ہے۔ بھارتی وفد کی قیادت نیشنل کوآرڈینیٹر الوک امیتابھ دیمری کررہے ہیں۔
اجلاس میں پاکستان کی 2026-27 کی ایس سی او صدارت کے پروگرام کو حتمی شکل دینے کے ساتھ آئندہ اجلاسوں اور مختلف تقریبات کی تیاریوں پر بھی غور کیا جائے گا۔
پاکستان نے رواں ماہ ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی گردشی صدارت سنبھالی ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان اپنی صدارت کے دوران علاقائی رابطہ کاری، جدت، اقتصادی تعاون اور عوامی روابط کے فروغ پر توجہ مرکوز کرے گا۔
وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ان ترجیحات کو آگے بڑھانے اور ایس سی او کے اندر تعاون مزید مضبوط بنانے کے لیے تمام رکن ممالک اور ایس سی او سیکریٹریٹ کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا، جبکہ مقصد رکن ممالک کے مشترکہ وژن کو عملی اور باہمی مفید اقدامات میں تبدیل کرنا ہے۔
کونسل آف نیشنل کوآرڈینیٹرز کا اجلاس 28 سے 30 ستمبر تک اسلام آباد میں جاری رہے گا۔ اجلاس کی صدارت پاکستان کے ایس سی او نیشنل کوآرڈینیٹر کریں گے، جبکہ تنظیم کے سیکریٹریٹ کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک یوریشین سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی تعاون کی تنظیم ہے، جسے 2001 میں چین، روس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان نے قائم کیا تھا۔ پاکستان اور بھارت 2017 میں مکمل رکن بنے، ایران 2023 جبکہ بیلاروس 2024 میں تنظیم کا 10واں رکن بنا۔



