بھارت میں 600سال پرانی مسجد بچانے کیلئے سیکڑوں مسلمان مسجد میں بیٹھ گئے

اجین (جانو ڈاٹ پی کے) بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں تاریخی شاہی مسجد کو جزوی طور پر مسمار کیے جانے کے خلاف سیکڑوں مسلمان مسجد کے اندر بیٹھ گئے، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی۔
A 600-year-old Mosque in Ujjain, India, is reportedly facing partial demolition to make way for the Hindu Simhastha Mela.
Thousands of Muslims protesting the proposed demolition were met with police violence, including the use of tear gas to disperse the crowd. pic.twitter.com/dJx0QOw5ZQ
— Mohsin Ali (@Mohsin_o2) September 28, 2026
بھارتی میڈیا کے مطابق اجین انتظامیہ نے 2028 میں ہونے والے سمہاستھا کمبھ میلے کی تیاریوں کے سلسلے میں سڑک چوڑی کرنے کے منصوبے کے تحت شاہی مسجد کے ایک حصے کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ بھی سڑک کی توسیع کے لیے مسجد کے متاثرہ حصے کو ہٹانے کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کرچکی ہے۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ رات مسجد کے قریب پولیس کی بھاری نفری اور ریپڈ ایکشن فورس تعینات کی گئی جبکہ بلڈوزر بھی پہنچائے گئے، تاہم مسجد کے اندر اور باہر بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی کے باعث کارروائی روک دی گئی۔
مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ دو ہفتوں سے احتجاجاً مسجد میں شفٹوں کی صورت میں موجود ہیں تاکہ تاریخی مسجد کو مسمار ہونے سے بچایا جاسکے۔
تازہ صورتحال میں مسجد کے باہر احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی، جبکہ پولیس کی جانب سے آنسو گیس استعمال کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ سڑک کو وسیع کرنے کا منصوبہ 2028 کے سمہاستھا کمبھ میلے کے دوران ٹریفک اور زائرین کی آمدورفت کو بہتر بنانے کے لیے ہے۔



