تھائی لینڈ میں سیلاب کی تباہ کاری،بنکاک میں شہری کمر تک پانی میں پھنس گئے،41صوبے متاثر

بنکاک (جانو ڈاٹ پی کے)تھائی لینڈ میں شدید بارشوں کے بعد سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، دارالحکومت بنکاک کے متعدد علاقوں میں پانی کمر تک پہنچ گیا جبکہ ہزاروں افراد نے محفوظ مقامات اور عارضی امدادی مراکز میں پناہ لے لی۔
رپورٹ کے مطابق مشرقی صوبے میں پانی کے ذخائر کی سطح خطرناک حد تک بڑھنے کے بعد شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل بھی شروع کردیا گیا ہے۔
گزشتہ ہفتے صرف دو سے تین روز کے دوران بنکاک میں 320 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو عام طور پر پورے ستمبر میں شہر میں ہونے والی بارش کے تقریباً برابر ہے۔ شدید بارش کے باعث شہر کا نکاسی آب کا نظام دباؤ کا شکار ہوگیا اور کئی رہائشی علاقے زیر آب آگئے۔
سیلاب سے متاثرہ ایک شہری بانگورن ڈیڈنؤام نے بتایا کہ گھر میں موجود خوراک ختم ہوچکی ہے کیونکہ وہ بروقت ضروری سامان محفوظ نہیں کرسکے تھے۔ ان کے مطابق گھر کا فریج بھی خالی ہوچکا ہے۔
تھائی وزارت داخلہ کے مطابق 16 ستمبر سے اب تک ملک کے 41 صوبے سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، جبکہ سیلاب کے باعث کم از کم 8 افراد ہلاک اور 5 لاکھ 80 ہزار سے زائد گھرانے متاثر ہوئے ہیں۔
وزارت داخلہ کے مستقل سیکریٹری ان سِٹ سمپنتھارت کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں 80 ہزار سے زائد افراد اپنے گھروں سے نکلنے سے قاصر ہیں۔ امدادی سرگرمیوں کے لیے موبائل کچن اور کشتیوں کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب کے دوران اور پانی اترنے کے بعد کم از کم مزید سات روز تک متاثرہ شہریوں کو روزانہ تین وقت کا کھانا فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
سیلاب سے 11 ارب بھات کے نقصان کا تخمینہ
ماہر اقتصادیات آت پسانوانیچ کے مطابق ملک بھر میں سیلاب سے کم از کم 11 ارب تھائی بھات، یعنی تقریباً 32 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا معاشی نقصان ہوسکتا ہے، جبکہ صورتحال بہتر نہ ہونے کی صورت میں نقصان مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
رنگسِٹ یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات سے وابستہ ماہر نے رائٹرز کو بتایا کہ سیلاب رواں سال تھائی لینڈ کی اقتصادی شرح نمو میں تقریباً 0.3 فیصد پوائنٹس کی کمی کا باعث بن سکتا ہے، جس سے شرح نمو 2.1 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔
ان کے مطابق تیسری سہ ماہی کی شرح نمو بھی تقریباً 0.5 فیصد پوائنٹس کم ہوکر 1.7 فیصد رہ سکتی ہے۔
تھائی لینڈ کی معیشت نے رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں سالانہ بنیاد پر 1.9 فیصد نمو کی، تاہم یہ پہلی سہ ماہی کی 2.8 فیصد شرح نمو کے مقابلے میں نمایاں کمی تھی۔



