ایلون مسک کے اسٹار شپ نے تاریخ رقم کردی، پہلی بار زمین کے مدار میں داخل

ٹیکساس (سپیشل رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کا نئی نسل کا اسٹار شپ راکٹ پیر کو پہلی بار زمین کے مدار تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا، حالانکہ پرواز کے دوران اس کا ایک انجن مقررہ وقت سے پہلے بند ہوگیا تھا۔

40 منزلہ بغیر پائلٹ خلائی گاڑی نے خلیج میکسیکو کے قریب براؤنس ویل میں واقع اسپیس ایکس کے اسٹار بیس کمپلیکس سے اڑان بھری۔ اسٹار شپ ایک سپر ہیوی بوسٹر اور اس کے اوپر نصب مرکزی اسٹار شپ خلائی جہاز پر مشتمل ہے۔

سپر ہیوی بوسٹر نے اسٹار شپ کو خلا تک پہنچانے کے بعد خود واپسی کا سفر مکمل کیا اور انجن کے ذریعے کنٹرول شدہ انداز میں خلیجی پانیوں میں لینڈنگ کی۔

تاہم خلا میں پہنچنے کے بعد اسٹار شپ کے تین مرکزی انجنوں میں سے ایک توقع سے پہلے بند ہوگیا۔ ابتدائی طور پر اسپیس ایکس کے ترجمان ڈین ہاؤٹ نے اعلان کیا کہ اس خرابی کے باعث خلائی جہاز مدار تک نہیں پہنچ سکے گا۔

چند منٹ بعد انجینئرز کی جانب سے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ تبدیل کیا گیا اور بتایا گیا کہ اسٹار شپ اب بھی انجن فائر کرکے مدار میں داخل ہوسکتا ہے۔ بعد ازاں اسٹار شپ نے کامیابی سے مطلوبہ انجن فائر کیا اور مدار میں پہنچ گیا۔

مدار میں داخل ہونے کے بعد اسٹار شپ نے تقریباً 269 کلومیٹر کی بلندی پر 26 نئی نسل کے اسٹار لنک سیٹلائٹس ایک ایک کرکے خلا میں چھوڑے۔

اسپیس ایکس کے مطابق اسٹار شپ کو مستقبل میں اسٹار لنک سیٹلائٹس کی زیادہ تعداد میں لانچنگ کے ساتھ ساتھ ناسا کے چاند سے متعلق مشنز کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔ موجودہ مشن تقریباً 10 گھنٹے جاری رہنے اور زمین کے چھ چکر مکمل کرنے کے بعد بحرالکاہل میں چلی کے مغرب میں گرنے کے لیے طے کیا گیا تھا۔

مدار تک پہنچنا اسٹار شپ پروگرام کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔ 2023 کے بعد اس کی گزشتہ 13 آزمائشی پروازیں ذیلی مداری حدود تک محدود رہی تھیں، جبکہ ایلون مسک نے اس کامیابی کا ہدف پہلے 2022 کے لیے مقرر کیا تھا۔

رائٹرز کے مطابق اسٹار شپ پروگرام کی ترقی پر اب تک اسپیس ایکس کے 15 ارب ڈالر سے زائد اخراجات ہوچکے ہیں، جبکہ کمپنی مستقبل میں سیکڑوں بلکہ ہزاروں اسٹار شپ پروازیں سالانہ چلانے کا ہدف رکھتی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button