برطانوی فوجی اڈے کے قریب 5 گرفتاریاں، ایران نے ملوث ہونے سے انکار کردیا

لندن (جانو ڈاٹ پی کے)ایران نے برطانیہ کے فوجی اڈے آر اے ایف فیئر فولڈ کے قریب پیش آنے والے مشتبہ واقعے میں ملوث ہونے کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے۔
برطانیہ میں ایرانی سفارتخانے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ ایران آر اے ایف فیئر فولڈ کے واقعے سے متعلق ان قیاس آرائیوں کو یکسر مسترد اور سختی سے مذمت کرتا ہے جن کے ذریعے تہران کو اس واقعے سے جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ایرانی سفارتخانے کے مطابق بعض برطانوی شخصیات اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے ایران کو واقعے سے منسلک کرنے کے لیے حالیہ دنوں میں بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی قیاس آرائیاں کی گئی ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ گمراہ کن اور نقصان دہ میڈیا بیانیے کے خلاف ایران اپنے ملک اور عوام کے حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے قانونی کارروائی سمیت تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔دوسری جانب برطانوی انسدادِ دہشت گردی پولیس نے آر اے ایف فیئر فولڈ کے قریب تین مشتبہ گاڑیوں کی موجودگی کے بعد پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار افراد کو ابتدائی طور پر دھماکا خیز مواد سے متعلق جرائم اور بعد ازاں دہشت گرد کارروائی کی تیاری کے شبے میں حراست میں لیا گیا۔رائٹرز کے مطابق پولیس نے بتایا کہ گرفتار پانچوں افراد لندن سے تعلق رکھنے والے برطانوی شہری ہیں اور ان کی عمریں 20 سال کے اوائل میں ہیں۔ حکام نے واقعے کے ممکنہ محرک یا کسی بیرونی ملک کے کردار کی حتمی تصدیق نہیں کی۔
آر اے ایف فیئر فولڈ برطانیہ کا ایک فوجی اڈہ ہے جسے امریکی فضائیہ بھی استعمال کرتی ہے اور حالیہ ایران تنازع کے دوران یہاں سے امریکی طیاروں کی کارروائیوں کا ذکر سامنے آیا ہے۔ برطانوی حکام نے ایران کے ملوث ہونے کے سوال پر تحقیقات مکمل ہونے تک قیاس آرائی سے گریز کیا ہے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعے کے دوران قریبی علاقے کے متعدد گھروں کو عارضی طور پر خالی بھی کرایا گیا جبکہ بم ڈسپوزل ماہرین نے مشتبہ گاڑیوں کا معائنہ کیا۔ ایران سے ممکنہ تعلق بھی تحقیقات کے مختلف پہلوؤں میں شامل ہے، تاہم یہ تعلق ابھی ثابت نہیں ہوا۔



