خیبرپختونخوا پولیس وسائل سے محروم؟سی ٹی ڈی کے پاس صرف17بلٹ پروف گاڑیاں،25مستقل اہلکارہونے کاانکشاف

پشاور (جانو ڈاٹ پی کے) خیبرپختونخوا پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی استعدادِ کار سے متعلق اہم اعداد و شمار سامنے آگئے ہیں، جن کے مطابق دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر موجود فورس کو نفری، انفرااسٹرکچر اور جدید آلات کی کمی کا سامنا ہے۔
تازہ میڈیا رپورٹ کے مطابق سرکاری پولیس دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ خیبرپختونخوا سی ٹی ڈی کی مجموعی نفری 3 ہزار 844 اہلکاروں پر مشتمل ہے، تاہم مستقل ملازمین کی تعداد صرف 25 ہے۔ سی ٹی ڈی کے پاس پورے صوبے میں صرف 17 بلٹ پروف ڈبل کیبن گاڑیاں موجود ہیں، جبکہ جدید فرانزک سہولیات، لوکیٹرز، جیمرز اور بکتر بند گاڑیوں سمیت دیگر تکنیکی وسائل کی کمی بھی رپورٹ ہوئی ہے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا پولیس کو 17 ہزار اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہونے کی رپورٹس بھی سامنے آچکی ہیں، جبکہ تقریباً 13 ہزار 500 اہلکار سیاست دانوں، سرکاری حکام، حساس عمارتوں اور دیگر سکیورٹی ڈیوٹیوں پر تعینات ہیں۔
رپورٹس کے مطابق قبائلی اضلاع میں پولیس انفرااسٹرکچر اور جدید انسدادِ دہشت گردی صلاحیتوں کی کمی کے باعث فورس کو دہشت گردوں کے جدید حربوں، بشمول بارودی حملوں اور ڈرون خطرات، سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے پولیس کو وسائل فراہم کرنے کے اقدامات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ خیبرپختونخوا حکومت کے مطابق رواں مالی سال پولیس اور سکیورٹی کے لیے 170 ارب روپے مختص کیے گئے جبکہ پولیس بجٹ میں 37 فیصد اضافہ اور 3 ہزار 550 نئی آسامیوں کی منظوری دی گئی ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق سی ٹی ڈی کو مضبوط بنانے کے لیے 7 ارب 77 کروڑ روپے سے زائد منظور کیے گئے، جن میں سے 7 ارب 5 کروڑ روپے جاری کیے جاچکے ہیں، جبکہ بلٹ پروف و بکتر بند گاڑیوں، ڈرونز، اینٹی ڈرون گنز، لوکیٹرز اور جیمرز سمیت جدید آلات کی خریداری بھی کی جارہی ہے۔
یوں خیبرپختونخوا میں پولیس اور سی ٹی ڈی کی موجودہ صلاحیت، وسائل اور دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کے درمیان توازن کا معاملہ اہم بحث بن گیا ہے، جبکہ سرکاری مؤقف کے مطابق فورس کی استعداد بڑھانے کے لیے مزید اقدامات جاری ہیں۔



