پاکستان نے آئی ایم ایف کو سرکاری افسران کے اثاثوں سے متعلق قانون سازی سے آگاہ کردیا

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے)پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے چوتھے جائزے پر مذاکرات جاری ہیں، جس دوران سرکاری ملازمین کے اثاثے ظاہر کرنے کے قانون پر بھی آئی ایم ایف مشن کو بریفنگ دی گئی۔ذرائع کے مطابق ایف بی آر، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور فنانس ڈویژن کے حکام نے آئی ایم ایف وفد سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں سرکاری ملازمین کے اثاثوں اور مالی معاملات کی نگرانی سے متعلق اقدامات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر حکام نے کسٹمز اور انکم ٹیکس سے متعلق امور پر آئی ایم ایف مشن کو بریفنگ دی، جبکہ کسٹمز اور انکم ٹیکس پالیسی ونگز کی جانب سے بھی وفد کو مختلف معاملات سے آگاہ کیا گیا۔مذاکرات کے دوران سرکاری ملازمین کے اثاثے ظاہر کرنے کے قانون سے متعلق بھی آئی ایم ایف کو بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ مجوزہ نظام کے تحت حکومت سرکاری ملازمین کے مالی طرزِ عمل کو ریگولیٹ اور مانیٹر کرسکے گی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ گریڈ 17 سے 22 تک کے سرکاری افسران اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہوں گے، جبکہ افسران کے اثاثوں کی تفصیلات ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہوں گی۔ذرائع کے مطابق سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور سیکریٹری فنانس ڈویژن بھی مذاکرات میں شریک ہوئے اور آئی ایم ایف کو سول سرونٹس کے اثاثوں سے متعلق کی جانے والی قانون سازی سے آگاہ کیا گیا۔



