پاکستانی تاریخ کا خلائی خواب حقیقت کے قریب، چین کے خلائی اسٹیشن پر پہلا پاکستانی خلا باز بھیجنے کی تیاریاں آخری مرحلے میں

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) پاکستان اور چین کے درمیان خلائی تعاون ایک نئے تاریخی مرحلے میں داخل ہوگیا، چین کے تیانگونگ خلائی اسٹیشن پر جانے والے پہلے پاکستانی خلا باز کے انتخاب کا فیصلہ قریب آ گیا ہے۔
Pakistani pilots Zeeshan Ali and Khurram Daud are training in China, hoping one will become the country's first astronaut aboard China's Tiangong space station. Ariba Shahid explains https://t.co/et7eroNba0 pic.twitter.com/ZcOxoX3wfM
— Reuters (@Reuters) September 28, 2026
پاکستانی فائٹر پائلٹس ذیشان علی اور خرم داؤد بیجنگ کے چائنا ایسٹروناٹ ریسرچ اینڈ ٹریننگ سینٹر میں کئی ماہ سے سخت تربیت حاصل کررہے ہیں، جس میں چینی زبان کی تعلیم سمیت مختلف جسمانی، طبی اور تکنیکی مراحل شامل ہیں۔
سپارکو میں انسان بردار خلائی تعاون کے سربراہ عامر گیلانی کے مطابق حتمی خلا باز کے نام کا اعلان اکتوبر کے وسط یا آخر تک متوقع ہے۔
منتخب پاکستانی پائلٹ کے لیے یہ تاریخی مشن پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہوگا جب ملک کا کوئی شہری خلا میں جائے گا۔ پائلٹ پاکستان واپس آئے بغیر براہ راست چین سے خلائی مشن پر روانہ ہوگا اور زمین پر واپسی کے بعد بحالی کے مرحلے سے گزر کر وطن واپس آئے گا۔
سپارکو کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر عزیر انصاری کے مطابق ابتدائی طور پر پائلٹس اور سائنس دانوں کے بڑے پول میں سے 42 فائنلسٹس منتخب کیے گئے تھے، جن کے طبی اور نفسیاتی ٹیسٹ لیے گئے۔ بعدازاں فائٹر پائلٹس کو اس لیے ترجیح دی گئی کہ انہیں تیز رفتار پرواز اور شدید جسمانی دباؤ برداشت کرنے کی تربیت حاصل ہوتی ہے۔
خلائی مشن پر جانے والا پاکستانی خلا باز پے لوڈ اسپیشلسٹ کے طور پر ذمہ داریاں انجام دے گا، یعنی اس کا بنیادی کردار خلائی جہاز چلانا نہیں بلکہ پاکستان کے سائنسی تجربات کو خلا میں مکمل کرنا ہوگا۔
کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی جامعات سے موصول ہونے والی 300 سے زائد تجاویز میں سے چینی اداروں نے چار بائیوٹیکنالوجی تجربات منتخب کیے ہیں۔ ان تجربات کا تعلق غذائی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم چیلنجز سے ہے۔
پاکستان اور چین کا خلائی تعاون صرف تیانگونگ خلائی اسٹیشن تک محدود نہیں۔ منصوبے کے تحت 2028 کے قریب چین کے چانگ ای-8 قمری مشن کے ذریعے ایک پاکستانی روبوٹک روور بھی چاند کی سطح پر بھیجے جانے کی تیاری ہے۔
یہ روور خودکار نظام اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے چاند کی سطح پر رکاوٹوں کی نشاندہی اور راستہ تلاش کرنے کے کام انجام دے گا۔



