4اکتوبر کو پی ٹی آئی اسلام آباد آئی تو ایمرجنسی لگائی جا سکتی ہے،رانا ثناء اللہ

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے)وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت وفاق کے دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں رکاوٹ بن رہی ہے، جبکہ صوبے میں گورنر راج، ایمرجنسی اور مذاکرات سمیت مختلف آپشنز زیرغور ہیں۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت امن و امان کے حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔ ان کے مطابق صوبے میں دہشت گردی سے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عام شہری متاثر ہو رہے ہیں جبکہ دہشت گرد افغانستان سے خیبرپختونخوا میں داخل ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے خلاف خیبرپختونخوا حکومت کا سیاسی بیانیہ وفاق کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ رانا ثنااللہ کے مطابق حکومت کا مطالبہ پی ٹی آئی سے سیاسی سوچ تبدیل کرنے کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہو اور دہشت گردی کی مذمت کرے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ 4 اکتوبر کو پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف آتا ہے تو صورتحال کے مطابق ایمرجنسی سمیت مختلف آئینی آپشنز زیر غور آسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر لانگ مارچ میں مزید تاخیر کی گئی تو حکومت کو مختلف آئینی راستے اختیار کرنا پڑ سکتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی و قانونی حق ہے، تاہم اسلام آباد میں احتجاج اور دارالحکومت کا گھیراؤ قابل قبول نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق اگر طاقت کے استعمال کی ضرورت پیش آئی تو ریاست قانون کے مطابق کارروائی کرے گی۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کو ملاقات کے لیے خط لکھا ہے اور پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن کو مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر بھی ملاقات میں شریک ہوں تو بہتر ہوگا۔
رانا ثنااللہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر کہا کہ ان کی رہائی عدالتوں کے ذریعے ہونی ہے، جبکہ ان کے علاج کے حوالے سے حکومت کی جانب سے تمام ممکنہ سہولیات فراہم کرنے کا مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ صوبائی حکومت کو گزشتہ دو ماہ سے لانگ مارچ کی تیاری کے بجائے صوبے کے انتظامی اور امن و امان کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے تھی۔
خیبرپختونخوا حکومت اور وفاق کے درمیان کشیدگی اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب پی ٹی آئی نے اپنا اسلام آباد لانگ مارچ 27 ستمبر سے مؤخر کرکے 4 اکتوبر کرنے کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ مارچ پشاور سے شروع ہوگا اور پارٹی اپنے مطالبات کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔



