اسرائیلی انتخابات قریب، نیتن یاہو نے پھر خود کو قومی سلامتی کا محافظ قرار دینا شروع کردیا

مقبوضہ بیت المقدس (جانو ڈاٹ پی کے)اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو آئندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات سے قبل اپنی روایتی انتخابی حکمت عملی کے ذریعے خود کو اسرائیل کی سلامتی کا ضامن ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کے بعد ان کی سکیورٹی پالیسی اور کارکردگی پر اٹھنے والے سوالات انتخابی مہم کا اہم موضوع بن گئے ہیں۔رائٹرز کے مطابق 27 اکتوبر 2026 کے انتخابات اسرائیل میں 7 اکتوبر 2023 کے تباہ کن حملے کے بعد پہلے عام انتخابات ہوں گے۔ اس حملے نے ملک کے سکیورٹی نظام کو شدید دھچکا پہنچایا تھا۔

نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ کا انتخابی نعرہ "نیتن یاہو ہتھیار نہیں ڈالیں گے” ہے۔ رائٹرز کے مطابق حالیہ رائے عامہ کے جائزوں میں لیکوڈ کی پارلیمانی نشستوں میں نمایاں کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، اگرچہ مختلف پولز میں سیاسی جماعتوں کی پوزیشنیں مختلف رہی ہیں۔

انتخابی تقاریر اور مختصر ویڈیوز میں نیتن یاہو اپنے سیاسی مخالفین کو کمزور قرار دیتے ہوئے یہ مؤقف پیش کر رہے ہیں کہ ان کے پاس اسرائیل کے دشمنوں کے خلاف کارروائی اور بیرونِ ملک اسرائیل کے مؤقف کے دفاع کے لیے مطلوبہ عزم موجود نہیں۔

رائٹرز کے مطابق منگل کو ایک فوجی اڈے سے جاری ویڈیو میں نیتن یاہو نے کہا کہ ایسے اشارے موجود ہیں کہ اسرائیل کے دشمن انتخابات سے قبل کسی حملے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کے مخالفین کو اس کے ساتھ "اب یا کبھی بھی” الجھنا نہیں چاہیے اور اسرائیل کا ردعمل ان تک پہنچے گا۔اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کے صدر یوحنان پلیسنر کے مطابق یہ نیتن یاہو کے لیے ایک مختلف نوعیت کا انتخاب ہے کیونکہ وہ پہلی مرتبہ ایسے بڑے سکیورٹی بحران کے بعد عوام سے ووٹ مانگ رہے ہیں جو ان کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران پیش آیا۔دوسری جانب حالیہ ہفتوں میں نیتن یاہو نے ان میڈیا رپورٹس کی بھی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے بعض شراکت داروں نے 7 اکتوبر کے حملے سے قبل انہیں حماس کے ممکنہ حملے سے آگاہ کیا تھا۔ نیتن یاہو کے سیاسی مخالفین نے ان رپورٹس کو ان کی حکومت کے خلاف تنقید کے لیے استعمال کیا ہے۔رائٹرز کے مطابق نیتن یاہو کی انتخابی مہم میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی مرکزی موضوعات میں شامل ہیں، جبکہ 27 اکتوبر کے انتخابات اسرائیل کے موجودہ سیاسی منظرنامے میں اہم مرحلہ ہوں گے۔

مزید خبریں

Back to top button