ایرانی چائے کی تاریخ، ثقافت اور روایتی ترکیب

ایمل سفیان
آج ایران میں چائے ہر گھر کی کہانی ہے، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ شروع میں ایران میں کافی (قہوہ) زیادہ مقبول تھی۔ چائے کی یہ کہانی ایران کے شمالی صوبے گیلان کی سرزمین سے جڑی ہوئی ہے، جہاں آج بھی دنیا کی خوشبودار اور خالص ترین چائے اگائی جاتی ہے۔
انیسویں صدی کے اواخر (تقریباً 1895ء) میں قاجار دور کے دوران، ایران کے ایک اصلاح پسند اور سفارت کار محمد حسن خان (صدالسلطنہ) چائے کی کاشت کا خیال روس اور ہندوستان سے ایران لے کر آئے۔ انہوں نے سب سے پہلے ایرانی صوبے گیلان (Gilan) میں چائے کے پودے کامیابی سے اگائے، کیونکہ وہاں کی آب و ہوا، نمی اور بارشیں اس کے لیے بہترین تھیں۔
اس کے بعد سے ایران کے شمالی علاقےخاص طور پر” گیلان” اور "مازندران”چائے کی پیداوار کا مرکز بن گئے۔ ایرانی چائے نے اپنی خوشبو، خالص پن اور ذائقے کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک الگ مقام بنایا۔ آج ایران میں چائے صرف ایک مشروب نہیں، بلکہ مہمان نوازی، گفتگو اور ثقافت کا لازمی حصہ ہے۔
ایرانی چائے کا رنگ ہلکا سرخ (یاقوتی) ہوتا ہے ۔
روایتی ایرانی چائے ہمیشہ "سموروار” (Samovar) یا ڈبل پاٹ (کیٹلی اور چائےدان) کے نظام پر بنائی جاتی ہے، جس میں چائے کو بہت اچھی طرح دم دیا جاتا ہے۔
اسے عام طور پر باریک شیشے کے پیالوں (جنہیں فنجان یا استکان کہتے ہیں) میں پیش کیا جاتا ہے، اور ساتھ میں قند (Hard sugar cubes) یا کھجور رکھی جاتی ہے۔ قند کو منہ میں رکھ کر اوپر سے چائے پی جاتی ہے،یہ ایرانی چائے نوشی کا منفرد انداز ہے۔
ایرانی چائے بنانے کی روایتی ترکیب
اجزاء
· خالص پتی (ایرانی بلیک ٹی): 2 کھانے کے چمچ
· پانی: ضرورت کے مطابق (ابالنے اور دم دینے کے لیے)
· ہری الائچی: 1 سے 2 عدد (خوشبو کے لیے، اختیاری)
· قند یا چینی: حسبِ ذائقہ
ترکیب
روایتی طور پر ایرانی چائے کے لیے ڈبل کیٹلی (اوپر چائےدان اور نیچے پانی کی بڑی کیٹلی) استعمال کی جاتی ہے۔
نچلی کیٹلی میں پانی بھر کر چولہے پر ابالنے کے لیے رکھ دیں۔
اوپر والے خالی چائےدان میں پتی اور الائچی ڈالیں۔ اب ابلتے ہوئے پانی کا ایک کپ اس میں ڈال کر فوری طور پر وہ پانی سنک میں پھینک دیں (اس سے پتی کی کڑواہٹ کم ہو جاتی ہے اور گرد صاف ہو جاتی ہے)۔
اب اوپر والے چائےدان میں دوبارہ ابلتا ہوا پانی بھر دیں اور اسے نچلی کیٹلی کے اوپر رکھ دیں۔ نچلی کیٹلی کی ہلکی آنچ (یا بھاپ) سے اوپر والے چائےدان کو کم از کم 15 سے 20 منٹ تک دم پر پڑا رہنے دیں۔
پیش کرنے کا طریقہ:
گلاس یا پیالے میں پہلے اپنی مرضی کے مطابق گاڑھا عرق (ڈیم شیدہ چائے) ڈالیں اور اوپر سے نچلی کیٹلی کا ابلتا ہوا سادہ پانی ملا کر رنگ ہلکا یا گہرا کر لیں۔
قند کا ایک ٹکڑا منہ میں رکھ کر اس خوشبودار اور تاریخی چائے کا لطف اٹھائیں۔



