چاند گزشتہ40 سے80 کروڑ سال کے دوران تقریباً 45 میٹر سکڑ چکا ہے،نئی تحقیق

لندن(جانوڈاٹ پی کے)ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل سائنس دانوں کو پہلی بار اس بات کے ٹھوس شواہد ملے تھے کہ چاند سکڑ رہا ہے، لیکن حال ہی میں محققین کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ چاند کس حد تک سکڑ چکا ہے۔
14 اکتوبر 2026 کو سائنسی جرنل دی پلینیٹیری سائنس جرنل میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق نے چاند کے سکڑنے کے عمل پر روشنی ڈالی ہے اور اب تک کا سب سے مفصل اندازہ پیش کیا ہے کہ حالیہ ارضیاتی تاریخ کے دوران ہمارے قدرتی سیارچے کا حجم کس قدر کم ہوا ہے۔
تحقیق میں چاند کی سطح پر 10 ہزار سے زیادہ نسبتاً نئی فالٹ لائنز (دراڑوں) کی نشاندہی کی گئی۔ محققین کے اندازے کے مطابق گزشتہ 40 کروڑ سے 80 کروڑ سال کے دوران چاند کے نصف قطر میں تقریباً 45 میٹر کی کمی واقع ہوئی ہے۔
اپنے مشاہدات کی بنیاد پر محققین نے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا کہ اگر چاند کے سکڑنے کی رفتار کو وقت کے ساتھ یکساں تصور کیا جائے تو اس کا نصف قطر ہر 10 لاکھ سال میں تقریباً 6 سے 11 سینٹی میٹر کم ہو رہا ہے۔
یہ پیمائشیں کرنے کے لیے محققین کی ایک ٹیم (جس کی قیادت تھامس آر واٹرز کر رہے تھے) نے ناسا کے لُونر رِیکونائسنس آربیٹر (ایل آر او) پر نصب کیمرے سے حاصل ہونے والی تصاویر اور مشاہدات کا استعمال کیا۔ تھامس واٹرز کا تعلق اسمتھ سونین کے نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میوزیم کے مرکز برائے ارضیاتی و سیاروی مطالعات سے ہے۔
محققین نے چاند کی سطح پر ہزاروں ایسی زمینی ساختوں کا نقشہ تیار کیا جنہیں لوبیٹ اسکارپس اور چھوٹی میئر رِجِز کہا جاتا ہے۔ یہ ساختیں زمین کی سطح پر دباؤ اور سکڑاؤ کی قوتوں کے نتیجے میں وجود میں آتی ہیں۔
یہ ساختیں چاند کے وسیع علاقوں میں پائی گئیں، جن میں چاند کے بلند و بالا پہاڑی علاقے اور اس کی سطح پر نظر آنے والے ہموار میدان دونوں شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ساختیں صرف چاند کے کسی ایک مخصوص علاقے تک محدود نہیں، بلکہ ہمارے قدرتی سیارچے کی سطح پر وسیع پیمانے پر موجود ہیں۔



