نحوست کی علامت سمجھے جانے والے گدھ ماحول کے قدرتی محافظ نکلے

حیاتیاتی ماہرین کے مطابق گدھ فطرت کے صفائی کے نظام کا اہم حصہ ہیں۔ یہ مردہ جانوروں کو کھا کر ماحول میں سڑاند اور بیماریوں کے پھیلاؤ کے امکانات کم کرتے ہیں۔ ان کی موجودگی اینتھراکس، تپ دق (ٹی بی) اور دیگر خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کو محدود کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگلات کی کٹائی، بڑھتی ہوئی آبادی، جدید تعمیرات اور قدرتی مساکن کی تباہی نے گدھوں کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ کھیتوں کی جگہ رہائشی کالونیوں کی تعمیر سے بھی ان کے قدرتی ماحول اور خوراک کے ذرائع محدود ہو رہے ہیں۔
گدھوں کی تعداد میں کمی کی ایک اہم وجہ مویشیوں کے علاج میں استعمال ہونے والی بعض ادویات بھی ہیں۔ خصوصاً ڈائیکلوفیناک (Diclofenac) جیسی دوا گدھوں کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہوسکتی ہے، اگر وہ اس دوا سے علاج کیے گئے مویشیوں کی لاشیں کھائیں۔
گدھوں کے تحفظ کے لیے ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) نے چھانگا مانگا جنگل میں گدھ افزائشی مرکز قائم کیا ہے، جہاں ان کی افزائش اور بقا کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق گدھوں کا تحفظ صرف ایک پرندے کی نسل بچانے کا معاملہ نہیں بلکہ قدرتی ماحول، انسانی صحت اور ماحولیاتی توازن کے تحفظ کے لیے بھی ضروری ہے۔



