امریکا میں جان لیوا فنگس کے کیسز میں اضافہ، دماغ میں پھوڑے اور اموات کا خطرہ بڑھنے لگا

رپورٹ کے مطابق جنوری 2009ء سے جولائی 2026ء تک امریکا میں اس انفیکشن کے 48 مصدقہ اور ایک ممکنہ کیس کی نشاندہی ہوئی۔ ماہرین تاحال اس کے پھیلاؤ کی وجوہات اور انسانوں تک پہنچنے کے طریقۂ کار کو پوری طرح سمجھنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
یہ فنگس سیاہ پھپھوندی کی ایک قسم ہے، جو مٹی اور گل سڑ جانے والے نامیاتی مادے میں پائی جاسکتی ہے۔ انفیکشن کی صورت میں یہ دماغ میں پھوڑے پیدا کرسکتی ہے، جس سے سوجن اور مرکزی اعصابی نظام کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ افراد کو یادداشت میں خرابی اور بینائی کے مسائل سمیت سنگین اعصابی پیچیدگیوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اس انفیکشن کی تشخیص بھی مشکل ہوسکتی ہے، کیونکہ اس کی علامات بعض اوقات دماغی رسولی جیسی دیگر بیماریوں سے مشابہت رکھتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بعض حالات میں اس انفیکشن سے اموات کی شرح 70 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، تاہم یہ شرح تمام متاثرہ افراد کے لیے یکساں نہیں سمجھی جانی چاہیے۔
واشنگٹن یونیورسٹی کی ایک لیبارٹری میں بھی اس فنگس سے متعلق کیسز میں اضافہ سامنے آیا۔ رپورٹ کے مطابق 2017ء سے 2023ء کے دوران دماغ اور مرکزی اعصابی نظام کے ہر ایک ہزار نمونوں میں اوسطاً 8.4 کیسز ریکارڈ کیے گئے، جبکہ 2025ء میں یہ تعداد بڑھ کر 26 فی ہزار ہوگئی، جو تقریباً 210 فیصد اضافہ ہے۔



