ایک اور خونی چھت،33جنازے،بے حس نظام؛جوابدہ کون؟

نہال معظم
پشاور کے علاقے آفریدی آباد میں نجی تعلیمی ادارے الخیر ایجوکیشن سینٹر کی چھت گرنے سے 32 طلبہ اور ایک خاتون استاد کی ہلاکت محض عمارت منہدم ہونے کا سانحہ نہیں، بلکہ بچوں کی حفاظت، تعمیراتی معیار اور ریاستی نگرانی پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔ امدادی کارروائیوں کے دوران ملبے سے لاشیں اور زخمی نکالے گئے۔ ابتدائی اطلاعات میں ہلاکتوں کی تعداد 28 تھی، جو بعد میں بڑھ کر 33 ہوگئی۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری سمیت سیاسی رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کیا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا تعزیتی بیانات اور تحقیقات کے احکامات کافی ہیں، یا بچوں کی جانوں کا تحفظ بھی ریاست کی ترجیح ہے؟
یہ المیہ کسی ایک شہر تک محدود نہیں۔ 30 جون 2026ء کو لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق ہوئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق مرکز رہائشی عمارت میں قائم تھا اور پولیس نے مالکان و ٹھیکیدار کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ دونوں واقعات اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی منظوری، ساختی مضبوطی اور حفاظتی معائنے کا نظام کس حد تک مؤثر ہے۔
رہائشی مکان کو اسکول یا ٹیوشن سینٹر میں تبدیل کرتے وقت عمارت کی ساخت، گنجائش، اضافی منزلوں، چھت پر تعمیرات اور ہنگامی اخراج کے راستوں کا تکنیکی جائزہ ضروری ہے۔ محض رجسٹریشن یا تعمیر کے وقت کی منظوری عمارت کے محفوظ ہونے کی ضمانت نہیں۔ پشاور کے واقعے میں کمزور ڈھانچے اور چھت پر اضافی بوجھ جیسے پہلوؤں کی تحقیقات ضروری ہیں، تاہم حادثے کی حتمی وجہ اور ممکنہ غفلت کا تعین تکنیکی شواہد اور شفاف تحقیقات ہی سے ہونا چاہیے۔ اسکول مالک کی گرفتاری بھی بذاتِ خود جرم ثابت ہونے کا ثبوت نہیں۔
ذمہ داری کا تعین صرف ادارے کے مالک تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ عمارت کے مالک، ٹھیکیدار، متعلقہ بلڈنگ کنٹرول ادارے، ضلعی انتظامیہ اور تعلیمی حکام کے کردار کا ان کے قانونی اختیارات کے مطابق جائزہ لیا جائے۔ اگر ناقص تعمیر، غیر قانونی تبدیلیوں، حفاظتی معائنے میں غفلت یا بدعنوانی کے شواہد ملیں تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ اصل احتساب وہ ہے جو ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ذمہ داروں تک پہنچے، نہ کہ چند گرفتاریوں کے بعد معاملہ ختم کردیا جائے۔
قانونی پہلو بھی اہم ہے۔ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 321 قتل بالسبب کی تعریف جبکہ دفعہ 322 اس کی سزا، یعنی دیت، سے متعلق ہے۔ لاہور کے واقعے میں دفعہ 322 کے تحت مقدمہ درج کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ دفعہ 304A کو پاکستان پینل کوڈ کی قابلِ اطلاق دفعہ قرار دینا درست نہیں۔ کسی سانحے میں کون سی دفعات لاگو ہوں گی، اس کا فیصلہ واقعے کے حقائق، دستیاب شواہد اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ مقدمے کے اندراج کے ساتھ جائے وقوعہ سے شواہد محفوظ کرنا، عمارت کا تکنیکی معائنہ اور عدالتی کارروائی کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانا بھی ضروری ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک میں تعلیمی عمارتوں کی حفاظت کے لیے ایسے نظام موجود ہیں جن سے پاکستان رہنمائی لے سکتا ہے۔ سنگاپور میں بلڈنگ اینڈ کنسٹرکشن اتھارٹی کے ضابطوں کے تحت متعلقہ غیر رہائشی عمارتوں کا عموماً ہر پانچ سال بعد اور رہائشی عمارتوں کا ہر دس سال بعد ساختی معائنہ کیا جاتا ہے، مخصوص استثناؤں کے ساتھ۔ مستند ساختی انجینئر معائنہ کرکے رپورٹ پیش کرتے ہیں اور سامنے آنے والی خرابیوں کی اصلاح ضروری ہوتی ہے۔
جاپان میں اسکولوں کے حفاظتی نظام میں روزمرہ معائنوں کے ساتھ منظم اور قانونی بنیاد رکھنے والے معائنے بھی شامل ہیں۔ وزارتِ تعلیم کے رہنما اصول عمارتوں اور سہولیات میں خطرات کی شناخت اور اصلاحی اقدامات پر زور دیتے ہیں۔ اس نظام کا اہم سبق یہ ہے کہ اسکولوں کی حفاظت کو کسی بڑے حادثے کے بعد متحرک ہونے والے انتظام تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔
انگلینڈ میں محکمہ تعلیم کی رہنمائی کے مطابق اسکولوں اور کالجوں کی عمارتوں کی حالت کے سروے مرمت اور طویل مدتی دیکھ بھال کے فیصلوں میں مدد دیتے ہیں۔ معائنے کی ضرورت عمارت کی عمر، ساخت، حالت اور خطرات کے مطابق طے ہوتی ہے۔ برطانوی پارلیمان کی تعلیمی کمیٹی نے بعض زیادہ خطرے والی تعمیراتی اقسام کے لیے ہر تین سے پانچ سال بعد منظم جائزوں کی سفارش بھی کی، تاہم یہ انگلینڈ کے ہر اسکول پر لاگو یکساں قانونی شرط نہیں۔
اسی طرح یونیسکو کے جامع اسکول سیفٹی فریم ورک 2022ء تا 2030ء میں محفوظ تعلیمی عمارتوں، ادارہ جاتی حفاظتی انتظامات اور بچوں میں خطرات سے بچاؤ کی آگاہی کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ حادثے کے بعد ردعمل دینے کے بجائے خطرات کی پیشگی شناخت، مرمت اور روک تھام کو ترجیح دی جائے۔
ان مثالوں کی روشنی میں پاکستان کو سرکاری و نجی اسکولوں، اکیڈمیوں اور ٹیوشن مراکز کا مرحلہ وار، آزادانہ ساختی آڈٹ کروانا چاہیے۔ مستند سول اور اسٹرکچرل انجینئرز کے ذریعے معائنوں کا قابلِ تصدیق ریکارڈ مرتب کیا جائے، خطرناک عمارتوں کو خالی کرانے اور مرمت تک تدریسی سرگرمیاں روکنے کا طریقۂ کار بنایا جائے اور بچوں کے لیے محفوظ متبادل فراہم کیے جائیں۔ معائنے کے نتائج اور حفاظتی حیثیت کے ریکارڈ تک والدین کی رسائی بھی ہونی چاہیے۔ تاہم ریاستی ادارے یہ ذمہ داری والدین پر ڈال کر بری الذمہ نہیں ہوسکتے؛ بنیادی ذمہ داری متعلقہ حکام اور تعلیمی اداروں کی ہے۔
پشاور کے ملبے سے نکلنے والی ہر لاش ہم سے سوال کرتی ہے: کیا ہمارے تعلیمی ادارے بچوں کا مستقبل تعمیر کررہے ہیں یا ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں؟ اگر ناقص تعمیر، نگرانی کی کمزوری یا حفاظتی ضابطوں پر عمل درآمد میں غفلت ثابت ہوتی ہے تو جواب دہی بھی اسی تناسب سے ہونی چاہیے۔
اب وقت ہے کہ تعزیتی بیانات سے آگے بڑھ کر تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے، تعلیمی عمارتوں کی حفاظت کو قومی ترجیح بنایا جائے اور آئندہ سانحات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ کسی بچے کی جان واپس نہیں لائی جاسکتی، نہ کسی ماں کی گود دوبارہ بھری جاسکتی ہے۔ بروقت معائنہ، مضبوط تعمیراتی ضابطوں اور مؤثر نگرانی سے اگلا سانحہ روکا جاسکتا ہے۔ سوال وہی ہے: 33 زندگیاں ختم ہونے کے بعد جواب دہ کون ہے، اور کیا اس بار کسی کو واقعی جواب دینا ہوگا؟



