’’شیرکی دھاڑ یا تیرکا وار‘‘؟آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی کا شور ،پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں لفظی گولہ باری،کاؤنٹ ڈاؤن شروع
بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر الیکشن پر احتجاج اور دوبارہ انتخابات کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان

لاہور/کراچی/اسلام آباد/مظفر آباد(سپیشل رپورٹ/جانوڈاٹ پی کے)آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں پولنگ کے دوران سیاسی ماحول غیر معمولی طور پر گرم ہو گیا ہے۔ ایک جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے مبینہ دھاندلی، بیلٹ باکس بھرنے، پولنگ ایجنٹس کو پولنگ اسٹیشنوں سے نکالنے اور تشدد کے الزامات عائد کرتے ہوئے احتجاج اور بعض حلقوں میں دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کرنے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنی انتخابی برتری اور عوامی حمایت کا دعویٰ کیا ہے۔ پولنگ کے اختتام اور ووٹوں کی گنتی شروع ہونے کے ساتھ ہی دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان لفظی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے، جبکہ نظریں اب نتائج پر مرکوز ہیں جو یہ فیصلہ کریں گے کہ آزاد کشمیر کی انتخابی بساط پر "شیر کی دھاڑ” غالب آتی ہے یا "تیر کا وار”۔
پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں آزاد کشمیر انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی مبینہ دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی احتجاج اور دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ الیکشن کمیشن آزاد کشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے میں پیپلزپارٹی کی جانب سے جمع کرائی گئی شکایات پر تاحال مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے دوسرے مرحلے کے دوران بھی مبینہ بیلٹ باکس بھرنے اور پولنگ ایجنٹس کو غیر قانونی طور پر پولنگ اسٹیشنوں سے نکالنے سے متعلق متعدد تحریری شکایات الیکشن کمیشن کو جمع کرا دی ہیں۔
مسلم لیگ ن کے شرپسند عناصر کی جانب سے آزاد کشمیر میں وقار اور اصول پسندی کی سیاست کی علامت، صدرِ ریاستِ آزاد جموں و کشمیر چوہدری لطیف اکبر پر حملہ قابل مذمت ہے، چوہدری لطیف اکبر پر حملے کے بعد انہی کے انتخابی حلقے ایل اے 31 میں میرے کارکن مشتاق شاہ کو شہید کردیا گیا، گولی، لاٹھی…
— Bilawal Bhutto Zardari (@BBhuttoZardari) August 2, 2026
پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں الٹرا فارم47والا انتخاب نظر آ رہا ہے۔پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہم نے آج15سے زائد درخواستیں دائر کر دی ہیں،کئی حلقوں میں پولنگ سٹاف اور سامان پہنچ ہی نہیں سکا،ہمارے پولنگ ایجنٹس کو پولنگ بوتھ سے نکالا گیا ہے،ایک پارٹی کو اقتدار دلانے کے لیے یہ کیا جا رہا ہے، ہماری شکایات پر ن لیگ کا جواب نہیں آیا۔
آزاد کشمیر میں الٹرا فارم 47 والا انتخاب نظر آرہا ہے، ندیم افضل چن
مظفرآباد میں چوہدری مجید کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ انتخابی عمل کے دوران دھاندلی، تشدد اور بے ضابطگیوں نے انتخابات کی شفافیت کو مشکوک بنا دیا ہے۔آزاد کشمیر کے انتخابات کے آغاز سے ہی کشیدگی اور امن و امان کی خراب صورتحال موجود تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ انتخابات تین مراحل میں کرانے پر ان کے تحفظات تھے، تاہم اس کے باوجود پیپلز پارٹی نے جمہوری عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے انتخاب میں حصہ لیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ صدر آزاد کشمیر چوہدری لطیف اکبر پر ان کے حلقے میں قاتلانہ حملہ کیا گیا، حالانکہ اس حوالے سے پہلے ہی متعلقہ اداروں کو آگاہ کیا گیا تھا۔ کائرہ نے مزید بتایا کہ اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی کا ایک کارکن بھی جان کی بازی ہار گیا ہے۔
دھاندلی، تشدد اور بے ضابطگیوں نے انتخابات کی شفافیت کو مشکوک بنا دیا، قمر زمان کائرہ
مظفرآباد(جانوڈاٹ پی کے) وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے صدر آزاد کشمیر چوہدری لطیف اکبر پر مبینہ حملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکریٹری اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس کو واقعے کی فوری تحقیقات اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق کیفرِ کردار تک پہنچانے کی ہدایت کر دی ہے۔وزیراعظم آزاد کشمیر نے سیکیورٹی کی خراب صورتحال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مبینہ طور پر ن لیگ سے تعلق رکھنے والے شرپسند عناصر نے چوہدری لطیف اکبر پر حملہ کر کے ناقابلِ برداشت اقدام کیا، جس کی ہر پہلو سے تحقیقات ہونی چاہئیں۔پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکریٹری جنرل نیئر بخاری نے بھی صدر آزاد کشمیر پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مظفرآباد ڈویژن میں مخالفین کو اپنی شکست واضح دکھائی دے رہی ہے، اسی لیے ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔
سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ اپنے بیان میں مریم اورنگزیب نے کہا کہ "الحمدللہ میرپور کے عوام نے پاکستان مسلم لیگ (ن)، نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے شیر پر مہر لگائی۔” انہوں نے کہا کہ آج مظفرآباد اور پنجاب میں بھی کارکنوں اور ووٹرز کا یہی جوش و جذبہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے انتخابی کیمپوں کی رونق اس بات کا ثبوت ہے کہ ان شاء اللہ فتح مسلم لیگ (ن) ہی کی ہوگی۔
میرپور کے بعد مظفرآباد اور پنجاب میں بھی شیر کی جیت ہوگی،مریم اورنگزیب



