آزاد کشمیر انتخابات: پیپلزپارٹی کی مختلف حلقوں میں مبینہ بے ضابطگیوں پر الیکشن کمیشن سے فوری کارروائی کی اپیل

مظفرآباد(جانوڈاٹ پی کے) پاکستان پیپلزپارٹی نے آزاد جموں و کشمیر کے مختلف انتخابی حلقوں میں مبینہ بے ضابطگیوں، انتظامی غفلت اور انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر الیکشن کمیشن سے فوری مداخلت اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

پیپلزپارٹی کی جانب سے الیکشن کمیشن کو جمع کرائی گئی درخواستوں میں مختلف حلقوں میں پیش آنے والے مبینہ واقعات کی تحقیقات اور انتخابی عمل کو شفاف بنانے کی استدعا کی گئی ہے۔

حلقہ ایل اے-28 کے حوالے سے پارٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ 71 پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابی عملہ مقررہ وقت پر نہ پہنچنے کے باعث پولنگ شروع نہ ہو سکی، جس سے چار یونین کونسلوں کے ووٹرز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پارٹی نے متاثرہ پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ کے اوقات میں توسیع کا مطالبہ کیا ہے۔

ایل اے-30 کے بناو لنگاہ پولنگ اسٹیشن کے بارے میں پیپلزپارٹی نے الزام عائد کیا کہ بیلٹ باکس پولنگ اسٹیشن سے باہر منتقل کرکے مبینہ طور پر بیلٹ اسٹفنگ کی جا رہی ہے، جس پر فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ایل اے-31 میں رنگلہ-کٹکیر روڈ بند ہونے کے باعث 50 سے زائد گاڑیوں میں سوار ووٹرز کے پھنس جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے پارٹی نے سڑک فوری کھلوانے اور پولنگ کے اوقات بڑھانے کی اپیل کی ہے۔

اسی طرح ایل اے-32 میں تین پولنگ اسٹیشنوں پر پیپلزپارٹی کے پولنگ ایجنٹس کو اندر بیٹھنے کی اجازت نہ دینے کا الزام لگایا گیا ہے، جبکہ پولنگ اسٹیشن نمبر 24 پر مبینہ بیلٹ اسٹفنگ اور ایک سرکاری ملازم کے مسلم لیگ (ن) کے پولنگ ایجنٹ کے طور پر تعینات ہونے کی شکایت بھی الیکشن کمیشن کو بھجوائی گئی ہے۔

ایل اے-34 کے حوالے سے بھی پیپلزپارٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کے پولنگ ایجنٹس کو مبینہ طور پر پولنگ اسٹیشنوں میں داخل ہونے سے روکا گیا، حالانکہ پولنگ ایجنٹ کے لیے مقامی رہائشی ہونا قانونی شرط نہیں ہے۔

تاحال الیکشن کمیشن یا دیگر متعلقہ حکام کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

مزید خبریں

Back to top button