اسرائیل اور ایران میں جنگ شروع: مشرقِ وسطیٰ میں خطرے کی گھنٹیاں

تہران/تل ابیب: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)مشرقِ وسطیٰ میں دہائیوں سے جاری کشیدگی اب براہِ راست باقاعدہ جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے دارالحکومت تہران سمیت اصفہان، تبریز اور کرج کے 15 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد ایران کی جانب سے بھی اسرائیل کے شمالی شہروں پر شدید میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ یہ جوابی کارروائی ایک ہفتے تک 24 گھنٹے جاری رہے گی۔ صورتحال اس وقت سنگین ہوئی جب اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کی تمام تر کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے نہ صرف لبنان پر بمباری کی بلکہ زمینی فوج بھی داخل کر دی۔
اس بڑھتی ہوئی کشیدگی پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ امریکا اس جنگ میں شامل نہیں ہوگا، اور اسرائیل کو تنبیہ کی ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحانہ قدم میں امریکی مدد کی توقع نہ رکھے۔ ایران نے بھی جوابی حملوں کو اپنی ریڈ لائن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی اسرائیل کی ہٹ دھرمی کا منطقی نتیجہ ہے۔ اس جنگی صورتحال کے باعث خطے کے کئی ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں جبکہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی دیکھی جا رہی ہے۔ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان سمیت متعدد ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے خطے کی سنگین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک اسرائیل لبنان اور غزہ سے اپنی فوجیں واپس نہیں بلاتا، خطے میں دیرپا امن کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
مکمل تفصیلات کے لیے معظم فخر کا وی لاگ ملاحظہ کریں۔




