فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ٹرمپ کو فون ،امریکی صدر شدید دباؤ کا شکار

اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)اسلام آباد میں ہونے والے متوقع ایران امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ سینئر صحافی گوہر بٹ، نجم ولی خان اور جواہر چوہدری نے اسلام آباد سے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ حالیہ ٹیلی فونک رابطے کے بعد صدر ٹرمپ ابنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی (Naval Blockade) ختم کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ الجزیرہ نے بھی اس خبر کی تصدیق کی ہے کہ فیلڈ مارشل کے فون کے بعد امریکی صدر اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران نے مذاکرات میں شرکت کے لیے بحری ناکہ بندی کے خاتمے کی سخت شرط عائد کی تھی، جس کے بعد مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہوتا نظر آ رہا تھا۔ نجم ولی خان کا کہنا ہے کہ ایران کے اندر دو واضح گروہ موجود ہیں: ایک مصلحت پسند طبقہ جو معاشی پابندیوں کے خاتمے کے لیے مذاکرات چاہتا ہے، اور دوسرا پاسدارانِ انقلاب کا گروہ جو کسی بھی دباؤ میں آنے کے خلاف ہے۔ تاہم، پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کے نتیجے میں اب یہ امید پیدا ہو گئی ہے کہ اگر امریکہ ناکہ بندی ختم کر دیتا ہے تو ایرانی وفد کل رات تک اسلام آباد پہنچ سکتا ہے اور بدھ سے مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسلام آباد میں اس وقت سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات ہیں اور ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔ صحافیوں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ پر اندرونی طور پر بھی شدید دباؤ ہے، کیونکہ امریکہ میں جنگ مخالف مظاہرے ہو رہے ہیں اور انہیں مڈ ٹرم الیکشن کا بھی سامنا ہے۔ ایسی صورتحال میں، مذاکرات ہی واحد راستہ دکھائی دیتے ہیں۔ اسلام آباد کی فضاؤں میں اس وقت مایوسی کے بجائے ایک ‘امید’ کی لہر موجود ہے کہ یہ مذاکرات نہ صرف ہوں گے بلکہ خطے میں مستقل امن کا راستہ بھی ہموار کریں گے۔ مزید تفصیلات کے لیے گوہر بٹ کی یہ خصوصی گفتگو دیکھیں۔




