ملک میں مالیاتی بے ضابطگیاں عروج پر: سرکاری اداروں کی ‘اپنی ریاست’ اور 1000 ارب روپے کا معمہ

​اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)​پاکستان کے مالیاتی نظام میں موجود سنگین سقم اور سرکاری اداروں کی من مانیوں کے حوالے سے ایک تشویشناک رپورٹ سامنے آئی ہے، جس نے ملکی معیشت کے استحکام پر سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔ تازہ ترین انکشافات کے مطابق، متعدد طاقتور سرکاری اداروں نے ریاست کے مرکزی مالیاتی نظام سے ہٹ کر اپنی الگ ‘مالیاتی ریاستیں’ قائم کر رکھی ہیں۔

​رپورٹ کے مطابق، ان اداروں نے عوامی ٹیکسوں اور محصولات سے حاصل ہونے والی رقوم کو ریاست کے مرکزی اکاؤنٹ (Account No. 1) میں جمع کرانے کے بجائے مختلف کمرشل بینکوں میں نجی اکاؤنٹس کھول کر وہاں رکھا ہوا ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ ان نجی اکاؤنٹس میں تقریباً 1000 ارب روپے کی خطیر رقم موجود ہے، جو قومی خزانے میں ہونے کے بجائے کمرشل بینکوں میں پڑی ہوئی ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ ایک طرف ریاست کا اپنا پیسہ ان بینکوں میں پڑا ہے اور دوسری طرف حکومت پاکستان انہی کمرشل بینکوں سے بھاری سود پر قرض لینے پر مجبور ہے۔

​اس مالیاتی بے ضابطگی کی ایک بدترین مثال سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کی صورت میں سامنے آئی ہے، جہاں گزشتہ 16 ماہ کے دوران بورڈ کی منظوری سے اپنے ہی اعلیٰ افسران، کمشنرز اور ڈائریکٹرز کو تنخواہوں، پینشن اور دیگر مراعات کی مد میں 1 ارب 19 کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی گئیں۔ یہ تمام عمل پبلک فنانشل مینجمنٹ ایکٹ 2019 کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک فیلڈ مارشل عاصم منیر اسمگلنگ اور ڈالر مافیا کی طرح ان ‘اندرونی مالیاتی دکانوں’ کو لگام نہیں ڈالتے، ملکی معیشت میں حقیقی شفافیت نہیں آ سکتی۔

​یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان عالمی سطح پر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے لیے کوشاں ہے، لیکن اندرونی طور پر ادارے وفاقی یکجا فنڈ (FCF) اور ٹریژری سنگل اکاؤنٹ کی خلاف ورزی کر کے ریاست کو معاشی طور پر کمزور کر رہے ہیں۔

 مزید تفصیلات کے لیے سید عمران شفقت کا یہ تجزیہ دیکھیں۔

YouTube player

 

مزید خبریں

Back to top button