بدین میں این سی ایچ ڈی اساتذہ کا مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے ) این سی ایچ ڈی ضلع بدین کے اساتذہ نے اپنے جائز مطالبات کی منظوری کے لیے بدین پریس کلب، ایوانِ صحافت بدین کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاج کی قیادت مرکزی جنرل سیکریٹری سندھ اشفاق احمد زنیور، ضلعی صدر بدین محمد اصغر چانڈیو، تعلقہ صدر بدین علی احمد خاصخیلی، تعلقہ صدر ماتلی محمد جام سومرو، تعلقہ صدر گولارچی نواز آرائیں، تعلقہ صدر ٹنڈو باگو راشد علی زنیور اور تعلقہ صدر تلہار بشیر احمد خاصخیلی نے کی احتجاج میں ضلع کے مختلف تعلقوں سے بڑی تعداد میں مرد و خواتین اساتذہ نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز، بینرز اور مطالبات پر مشتمل نعرے درج تختیاں اٹھا رکھی تھیں اور اپنے حقوق کے حق میں نعرے بازی کی اس موقع پر اساتذہ نے حکومتِ سندھ، محکمہ تعلیم اور متعلقہ حکام کے سامنے اپنے اہم مطالبات پیش کیے۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این سی ایچ ڈی کے اساتذہ گزشتہ کئی برسوں سے سندھ کے غریب، پسماندہ اور دیہی علاقوں میں تعلیم کی روشنی پھیلانے کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں، مگر افسوس کہ آج تک ان کے مسائل کا مستقل حل نہیں نکالا گیا، جس کے باعث اساتذہ میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اساتذہ کا پہلا مطالبہ یہ تھا کہ طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے این سی ایچ ڈی اساتذہ کو فوری طور پر ریگولر کیا جائے تاکہ وہ غیر یقینی صورتحال سے نکل کر اطمینان کے ساتھ تدریسی فرائض انجام دے سکیں۔ دوسرا مطالبہ بند آئی ڈیز کی بحالی سے متعلق تھا تاکہ تنخواہوں اور دیگر انتظامی معاملات میں پیش آنے والی مشکلات ختم کی جا سکیں۔ جبکہ تیسرے مطالبے میں اساتذہ کی عمر کی حد 55 سال سے بڑھا کر 60 سال کرنے کی اپیل کی گئی تاکہ تجربہ کار اساتذہ مزید عرصے تک تعلیمی میدان میں خدمات انجام دے سکیں احتجاج کرنے والے اساتذہ نے خبردار کیا کہ اگر ان کے جائز مطالبات جلد تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ پورے سندھ تک وسیع کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم جیسے اہم شعبے سے وابستہ اساتذہ کو نظرانداز کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

آخر میں اساتذہ نے میڈیا نمائندگان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپیل کی کہ ان کی آواز اعلیٰ حکام تک پہنچائی جائے اور اساتذہ کے ساتھ انصاف کیا جائے

مزید خبریں

Back to top button