ٹرمپ کی دوخلی چالیں:ایران کا مذاکرات کے دوسرے دور سے انکار

اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب ایران نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے صاف انکار کر دیا۔ تہران کا یہ فیصلہ ابنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کی جانب سے ایرانی تجارتی جہاز ‘کوسٹکا’ کو تحویل میں لینے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیانات کے ردعمل میں سامنے آیا ہے۔ ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ ایران اس طرح کے دباؤ میں آکر مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا۔
یہ صورتحال پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لیے ایک بڑے امتحان کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ فیلڈ مارشل، جنہوں نے تہران میں تین دن قیام کر کے ایرانی قیادت اور پاسدارانِ انقلاب کو جنگ بندی اور مذاکرات پر آمادہ کیا تھا، اب ایک بار پھر تعطل کو ختم کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ دوسری جانب، صدر ٹرمپ کی جانب سے ‘ٹروتھ سوشل’ پر دی گئی دھمکیاں، جن میں ایرانی پاور ہاؤسز اور پلوں کو نشانہ بنانے کا ذکر کیا گیا ہے، نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ایک طرف مذاکرات کی دعوت دے رہے ہیں اور دوسری طرف بحری ناکہ بندی برقرار رکھ کر یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ وہ فاتح کے طور پر ایران کو اپنی شرائط منوانے پر مجبور کر رہے ہیں۔ ادھر چین سے آنے والے ایرانی جہاز کو روکنے سے اس تنازع میں بیجنگ کے ملوث ہونے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے، جو جنگ کو عالمی تصادم میں بدل سکتا ہے۔ پاکستان اس وقت ‘تنی ہوئی رسی’ پر چل رہا ہے، جہاں اسے ایک طرف اپنے دفاعی معاہدوں کا پاس رکھنا ہے تو دوسری طرف خطے میں امن کی بحالی کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں اس وقت بھی کوششیں جاری ہیں کہ کسی طرح دونوں فریقین کو دوبارہ میز پر لایا جا سکے تاکہ 21 اپریل کو ختم ہونے والی جنگ بندی میں توسیع ممکن ہو سکے۔ اس حساس صورتحال پر امداد سومرو کی تفصیلی رپورٹ دیکھیں۔




