تونسہ کے سرکاری ہسپتال کی مجرمانہ غفلت ،ایک سال میں 331 بچے ایڈز کا شکار

تونسہ شریف: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)جنوبی پنجاب کے ضلع تونسہ سے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والی خبر سامنے آئی ہے جہاں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہاسپٹل کی مجرمانہ غفلت کے باعث محض ایک سال کے دوران 331 بچے ایچ آئی وی (ایڈز) جیسے مہلک وائرس کا شکار ہو گئے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے (BBC) کی ایک تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، ہسپتال کے عملے کی جانب سے ایک ہی سرنج کو بار بار استعمال کرنا اس ہولناک المیے کی بنیادی وجہ بنا ہے۔ بی بی سی کے 36 گھنٹوں پر محیط خفیہ آپریشن اور ریکارڈنگز میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح معصوم بچوں کو علاج کے نام پر موت کے انجکشن لگائے جا رہے تھے اور ایک ہی آلودہ نیڈل سے کئی مریضوں کو دوائیاں دی جا رہی تھیں۔
اس افسوسناک صورتحال کا انکشاف اس وقت ہوا جب ایک نجی کلینک کے ڈاکٹر نے محسوس کیا کہ اس کے پاس آنے والے زیادہ تر بچے ایچ آئی وی پوزیٹو نکل رہے ہیں، اور ان سب کا ایک ہی مشترکہ پس منظر تھا کہ انہوں نے تونسہ کے سرکاری ہسپتال سے علاج کرایا تھا۔ اس رپورٹ میں آٹھ سالہ محمد امین اور اس کی بہن اسما کی دردناک کہانی بھی بیان کی گئی ہے۔ محمد امین، جو معمولی بخار کے علاج کے لیے ہسپتال گیا تھا، اسی آلودہ سرنج کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار گیا، جبکہ اس کی دس سالہ بہن اسما بھی اسی وائرس کے باعث اس وقت زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔
اگرچہ محکمہ صحت پنجاب نے ابتدائی رپورٹ کے بعد ہسپتال کے ایم ایس کو معطل کر دیا تھا، لیکن بی بی سی کے سٹنگ آپریشن سے ثابت ہوا کہ ہسپتال کے اندرونی نظام میں تاحال کوئی تبدیلی نہیں آئی اور آج بھی وہی غلیظ اور خطرناک طریقہ کار رائج ہے۔ یہ واقعہ پاکستان کی تاریخ میں 2019 کے رتو ڈیرو (سندھ) واقعے کے بعد دوسرا بڑا المیہ ہے جہاں سینکڑوں بچے طبی عملے کی لاپروائی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک نظامِ صحت میں جزا اور سزا کا تصور واضح نہیں ہوگا اور مقامی سطح پر اختیارات کی منتقلی نہیں ہوگی، ایسے واقعات کا سدِباب ممکن نہیں۔ اس ہولناک المیے کی مزید تفصیلات کےلیے معظم فخر کا وی لاگ مکمل ملاحظہ کریں:




