امریکا نے ایران پر حملے کا فیصلہ کرلیا؟تہران کی جوابی کارروائی کی سنگین دھمکی

تہران (جانو ڈاٹ پی کے)امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گئی، ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکام نے ایران کے خلاف کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جبکہ تہران نے حملے کی صورت میں خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی۔
ایرانی فوج کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری کے مطابق انٹیلی جنس معلومات سے معلوم ہوا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ ایک یورپی ملک میں ہونے والے مشترکہ اجلاس کے دوران کیا۔
ابراہیم ذوالفقاری نے خبردار کیا کہ ایران پر کسی بھی حملے کی صورت میں خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا اور ایسی جوابی کارروائیاں کی جائیں گی جن کی کوئی حد نہیں ہوگی۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ جو بھی ملک ایران کے خلاف کارروائی میں امریکا کا ساتھ دے گا، اسے بھی شریکِ جرم تصور کیا جائے گا۔ ان کے بقول امریکا اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور ایران کے خلاف جنگ میں جھوٹی کامیابیاں ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے بھی امریکا کو سنگین نتائج سے خبردار کردیا۔ ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے ایرانی معیشت کو نشانہ بنایا تو امریکی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
محسن رضائی کے مطابق امریکی ڈرلنگ، تجارتی اور کاروباری کمپنیوں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے جبکہ دنیا میں جہاں کہیں بھی امریکی جہاز موجود ہوں گے، انہیں بھی ہدف بنایا جائے گا۔
ایرانی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ ایرانی معیشت پر امریکی حملے کا جواب امریکی معیشت پر حملے سے دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے ہائپرسونک میزائلوں کی رفتار ماک 6 سے بڑھا کر ماک 10 کردی ہے جبکہ دفاعی نظام اور الیکٹرانک وارفیئر کی صلاحیتوں کو بھی مزید ترقی دی گئی ہے۔
محسن رضائی نے عرب ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکا کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال کرنے سے روکیں۔



