پانی کی باری کے تنازع پر قتل، مقتول کے اہلخانہ کو مبینہ دھمکیاں، تحفظ کا مطالبہ

بدین (جانو ڈاٹ پی کے)پانی کی باری کے تنازع پر ایک ہفتہ قبل قتل ہونے والے گاؤں یوسف جونیجو کے رہائشی زمیندار حاجی قاسم جونیجو کے بیٹے اور بھائی مبینہ دھمکیوں اور ہراساں کیے جانے کے خلاف داد رسی کے لیے پریس کلب پنگریو پہنچ گئے، جہاں انہوں نے پولیس اور اعلیٰ حکام سے فوری تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا۔
مقتول حاجی قاسم جونیجو کے بھائی حاجی طالب جونیجو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ آج ان کی زمین پر پانی کا مقررہ وار ہے، تاہم مقتول کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ملزمان کے مبینہ لواحقین کی جانب سے انہیں مسلسل دھمکیاں دی جارہی ہیں اور ہراساں کیا جارہا ہے۔
حاجی طالب جونیجو کے مطابق انہیں مبینہ طور پر دھمکی دی جارہی ہے کہ گھر میں موجود بزرگ شخص کو قتل کرکے الٹا ان کے خلاف مقدمہ درج کرایا جائے گا، جس کے باعث خاندان میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
مقتول کے بیٹے عطاء اللہ جونیجو نے بتایا کہ تقریباً آٹھ روز قبل پانی کی باری کے تنازع پر ان کے والد حاجی قاسم جونیجو کو قتل کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق واقعے کے مقدمے میں چار ملزمان گرفتار ہوچکے ہیں، تاہم گرفتار ملزمان کے لواحقین کی جانب سے اب انہیں مبینہ طور پر دھمکیاں دی جارہی ہیں۔
مقتول کے بھائی اور بیٹے نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر مستقبل میں خاندان کے کسی فرد کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ یا قتل پیش آتا ہے تو ان کے مطابق اس کے ذمہ دار وہی افراد ہوں گے جن پر دھمکیاں دینے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔
انہوں نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی حیدرآباد اور ایس ایس پی بدین سے مطالبہ کیا کہ خاندان کو فوری سیکیورٹی فراہم کی جائے، مبینہ دھمکیوں کا نوٹس لیا جائے اور کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ پانی کی باری کے تنازع نے پہلے ہی ایک قیمتی جان لے لی ہے، اس لیے مزید کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے فوری کارروائی ضروری ہے۔
واضح رہے کہ دھمکیوں سے متعلق الزامات متاثرہ خاندان کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے۔



