’شعلے‘ کے امام صاحب پشاور میں پیدا ہوئے،اے کے ہنگل کی زندگی جدوجہد، فن اور پاکستان سے محبت کی داستان بن گئی

پشاور (جانو ڈاٹ پی کے)فلم ’شعلے‘ میں امام صاحب اور رحیم چاچا کے ناقابلِ فراموش کردار سے شہرت پانے والے نامور بھارتی اداکار اوتار کشن ہنگل کا تعلق پشاور سے تھا۔ وہ 15 اگست 1915 کو پشاور کے علاقے ریتی بازار کی ایک گلی میں پیدا ہوئے، جہاں ان کا بچپن مختلف ثقافتوں، زبانوں اور سماجی روایات کے درمیان گزرا۔

اے کے ہنگل کے والد پنڈت ہری کشن ہنگل کشمیری پنڈت خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے آباؤ اجداد کشمیر سے نقل مکانی کرکے لکھنؤ میں آباد ہوئے تھے، بعد ازاں ہنگل کے دادا پنڈت دیا کشن ہنگل پشاور آ گئے، جہاں انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور فارسی میں ڈائری لکھنے کا شوق رکھتے تھے۔

ہنگل کے والد بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور گورنر سیکریٹریٹ میں ایک اہم عہدے پر فائز رہے۔ ہنگل کی والدہ کا تعلق سیالکوٹ سے تھا۔ والد موسیقی اور تھیٹر کے دلدادہ تھے، یہی وجہ تھی کہ جب پارسی تھیٹر کمپنیاں پشاور میں ڈرامے پیش کرنے آتیں تو وہ کم عمر ہنگل کو اپنے ساتھ تھیٹر لے جاتے۔ ہنگل اگلی نشستوں پر بیٹھ کر گھنٹوں ڈرامے دیکھا کرتے، یوں اداکاری اور تھیٹر سے ان کی دلچسپی بچپن ہی میں پروان چڑھ گئی۔

ابتدائی تعلیم انہوں نے اپنے گھر کے قریب ایک اسلامی مدرسے سے حاصل کی، جہاں ان کے بیشتر دوست مسلمان بچے تھے۔ بعد میں انہیں قلعہ بالاحصار کے سامنے واقع خالصہ ہائی اسکول میں داخل کرایا گیا۔ پڑھائی میں زیادہ دلچسپی نہ تھی، تاہم ڈرائنگ میں خاصی مہارت رکھتے تھے۔

جوانی میں اے کے ہنگل سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کی طرف بھی متوجہ ہوئے۔ ایک مرتبہ اسکول کے سامنے خدائی خدمت گاروں کا جلوس دیکھا جس کی قیادت بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ باچا خان کر رہے تھے۔ وہ باچا خان کی شخصیت سے متاثر ہوئے اور پشاور کی دیگر سیاسی و سماجی شخصیات میں بھی دلچسپی لینے لگے۔

برطانوی دور میں ہنگل نے آزادی کی تحریک میں حصہ لیا اور اپنے سیاسی نظریات کی وجہ سے جیل بھی گئے۔ خاندان کے کراچی منتقل ہونے کے بعد ان کی سیاسی سرگرمیاں مزید نمایاں ہوئیں۔ وہ بائیں بازو کے نظریات اور کمیونسٹ تحریک سے وابستہ رہے اور کراچی میں ٹیلرنگ ورکرز یونین کے قیام میں بھی کردار ادا کیا۔

1946 میں انہیں کمیونسٹ پارٹی کا سیکریٹری منتخب کیا گیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ ایک عرصے تک جیل میں رہے۔ بعد ازاں پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں ان کی بھارت منتقلی کے احکامات جاری ہوئے، تاہم انہوں نے ابتدا میں جانے سے انکار کیا۔ بالآخر انہیں بھارت منتقل کردیا گیا۔

بھارت پہنچنے کے بعد اے کے ہنگل نے تھیٹر کی دنیا میں قدم رکھا اور انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن (IPTA) سے وابستہ ہوگئے۔ انہوں نے بلراج ساہنی اور کیفی اعظمی سمیت کئی نامور فن کاروں کے ساتھ کام کیا۔

ان کے فلمی کیریئر کا آغاز 1960 کی دہائی میں ہوا اور بعد میں انہوں نے تقریباً تین سو فلموں میں اداکاری کی۔ اگرچہ انہوں نے زیادہ تر عمر رسیدہ افراد کے کردار ادا کیے، لیکن فلم ’شعلے‘ میں امام صاحب کا کردار ان کی شناخت بن گیا۔ ’رحیم چاچا‘ کے کردار نے انہیں برصغیر کے کروڑوں فلم بینوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے زندہ کردیا۔

اے کے ہنگل نے راجیش کھنہ سمیت اپنے دور کے متعدد بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کیا۔ ’آپ کی قسم‘، ’امردیپ‘، ’پھر وہی رات‘، ’قدرت‘، ’نوکری‘، ’تھوڑی سی بے وفائی‘ اور ’سوتیلا بھائی‘ سمیت متعدد فلموں میں ان کی اداکاری کو یاد رکھا جاتا ہے۔

فن کے ساتھ ساتھ اے کے ہنگل اپنی آزاد خیالی اور مذہبی ہم آہنگی کے خیالات کے لیے بھی جانے جاتے تھے۔ پاکستان سے ان کی وابستگی اور محبت کا اظہار مختلف مواقع پر سامنے آتا رہا۔ یہی وجہ تھی کہ بھارت میں بعض انتہاپسند حلقوں کی جانب سے انہیں تنقید اور مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

شیوسینا کے سربراہ بال ٹھاکرے کی جانب سے ان پر ’اینٹی انڈین‘ ہونے کے الزامات کے بعد ان کی فلموں کے بائیکاٹ اور احتجاج کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ہنگل نے اس مخالفت کا جواب دیتے ہوئے اپنی آزادی کی جدوجہد اور قربانیوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ انہیں حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ کسی سے لینے کی ضرورت نہیں۔

اے کے ہنگل کی زندگی کا ایک منفرد پہلو یہ بھی تھا کہ انہوں نے عمر کو کبھی اپنی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ بڑھاپے میں بھی وہ اداکاری اور دیگر تخلیقی سرگرمیوں سے وابستہ رہے۔ وہ 96 برس کی عمر میں وہیل چیئر پر فیشن شو میں شریک ہوئے جبکہ 97 برس کی عمر میں اینی میٹڈ فلم اور ٹی وی پروگرام کے لیے وائس اوور بھی کیا۔

زندگی کے آخری برسوں میں انہیں شدید مالی مشکلات اور بیماری کا سامنا کرنا پڑا، تاہم ان کی خودداری برقرار رہی۔ 2011 میں گرنے کے باعث ان کی ران کی ہڈی ٹوٹ گئی، جس کے بعد صحت مزید کمزور ہوتی گئی۔

26 اگست 2012 کو سینے میں تکلیف اور سانس لینے میں دشواری کے باعث انہیں ممبئی کے آشا پاریکھ اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ 97 سالہ اے کے ہنگل 26 اگست 2012 کو دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن پشاور کی گلیوں سے اٹھنے والی ان کی آواز اور ’شعلے‘ کے امام صاحب کا کردار آج بھی برصغیر کے فلمی شائقین کی یادوں میں زندہ ہے۔

اے کے ہنگل کی زندگی محض ایک اداکار کی داستان نہیں بلکہ پشاور سے ممبئی تک پھیلے ایک ایسے سفر کی کہانی ہے جس میں تھیٹر، سیاست، آزادی کی جدوجہد، نظریاتی وابستگی، مذہبی ہم آہنگی اور اپنے جنم بھومی سے محبت کے کئی رنگ دکھائی دیتے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button