ملک محفوظ ہوگا تو سیاست اور ترقی بھی ہوگی، ملک محمد احمد خان

کھڈیاں خاص (جانو ڈاٹ پی کے)سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ ملک کی سکیورٹی سب سے پہلے ہے، پاکستان محفوظ ہوگا تو سیاست، معیشت اور ترقی کا سفر بھی آگے بڑھے گا۔

کھڈیاں خاص میں یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ملک محمد احمد خان نے کہا کہ نوجوانوں نے اپنے اجتماعات کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ وہ ملک کا ہر اول دستہ ہیں۔ انتخابات سے پہلے اور بعد میں نوجوانوں نے لاکھوں افراد کے اجتماعات کیے، جس سے ان کی سیاسی و سماجی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان جس تبدیلی کے خواہاں ہیں، وہ آکر رہے گی اور انہیں روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے۔ کھڈیاں کے نوجوانوں نے یونیورسٹی کے قیام کے بعد روزگار اور ملازمتوں سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں، جو ان کی بنیادی ضروریات کی عکاسی کرتے ہیں۔

سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ نوکریاں دینا اور حکمرانی کا حق عوام کا ہے، سڑکیں اور یونیورسٹیاں بنانا بھی عوام کا حق ہے۔ عوام کا پیسہ منتخب نمائندہ ان کی دہلیز تک پہنچائے گا تو اسے عوام کو جواب بھی دینا ہوگا۔

ملک محمد احمد خان نے تعلیم کو پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور کسی بچے کو سکول سے باہر نہیں رہنے دیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس وقت ڈھائی کروڑ بچے سکول سے باہر ہیں، اس لیے ملک میں تعلیم اور صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت صحت کے شعبے میں بھرپور سرمایہ کاری کر رہی ہے اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں بہتری ملک کی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ذکر کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ قوم کا ایک ایک نوجوان پاک فوج کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کوہاٹ میں شہید ہونے والے سپاہی کے بچے کی جانب سے والد کے جسد خاکی کو سلیوٹ کرنے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس منظر نے 25 کروڑ عوام کے جذبات کی ترجمانی کی۔

ملک محمد احمد خان نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت مختلف چیلنجز درپیش ہیں اور ملک کو محفوظ بنانے کے لیے سکیورٹی کو اولین ترجیح دینا ہوگی۔ ان کے بقول پاک فوج کے جوان ملک کے تحفظ کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دشمن پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہا اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے، تاہم قوم کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کے خلاف ہرزہ سرائی برداشت نہیں کی جاسکتی اور ملک کی مسلح افواج کے خلاف کسی بھی سازش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

مزید خبریں

Back to top button