روس میں پارلیمانی انتخابات کا آخری مرحلہ، ٹرن آؤٹ 50 فیصد سے تجاوز

ماسکو (جانو ڈاٹ پی کے)روس میں پارلیمان کے ایوانِ زیریں ریاستی دُوما کی نئی تشکیل کے لیے تین روزہ انتخابات آخری مرحلے میں داخل ہوگئے، جہاں 18 ستمبر سے شروع ہونے والی ووٹنگ 20 ستمبر کو مکمل ہورہی ہے۔

روسی مرکزی الیکشن کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق 20 ستمبر کو ماسکو کے وقت دوپہر کے بعد ملک بھر میں ووٹر ٹرن آؤٹ 50 فیصد سے تجاوز کرگیا۔ یہ دورانِ پولنگ شرح ہے، جبکہ حتمی ٹرن آؤٹ مکمل انتخابی اعدادوشمار مرتب ہونے کے بعد سامنے آئے گا۔

ریاستی دُوما کی مجموعی 450 نشستوں کے لیے انتخابات ہورہے ہیں۔ ان میں 225 نشستیں جماعتی فہرستوں جبکہ 225 نشستیں سنگل ممبر حلقوں کے ذریعے پُر کی جاتی ہیں۔ انتخابات میں یونائیٹڈ رشیا، کمیونسٹ پارٹی، لبرل ڈیموکریٹک پارٹی، نیو پیپلز اور دیگر جماعتیں حصہ لے رہی ہیں۔

روسی شہریوں نے روایتی پولنگ اسٹیشنز کے علاوہ الیکٹرانک ووٹنگ کی سہولت بھی استعمال کی۔ روسی حکام نے ماسکو کے آن لائن ووٹنگ نظام اور بعض مواصلاتی نیٹ ورکس پر سائبر حملوں کی اطلاعات دی ہیں۔ مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق حملوں کے باوجود ووٹنگ کا نظام فعال رہا، تاہم ان حملوں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

روس کے مختلف ٹائم زونز کے باعث مشرقی علاقوں میں پولنگ پہلے مکمل ہوئی، جبکہ مغربی علاقوں میں ووٹنگ آخری مرحلے تک جاری رہی۔

صدر ولادیمیر پوتن نے انتخابات سے قبل شہریوں پر زور دیا تھا کہ وہ اپنا آئینی حقِ رائے دہی استعمال کریں۔ روسی حکام نے یوکرین پر انتخابی عمل میں خلل ڈالنے کی کوششوں کے الزامات بھی عائد کیے ہیں، تاہم ان دعوؤں کے بعض حصوں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔

یہ انتخابات فروری 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے آغاز کے بعد ہونے والے پہلے پارلیمانی انتخابات ہیں۔ ووٹنگ کے دوران روس کے زیرِ قبضہ یوکرینی علاقوں میں بھی انتخابی عمل شامل کیے جانے پر یوکرین اور بعض دیگر فریقوں نے اعتراضات کیے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button