افغانستان سے دہشت گرد آکر ہمارے بچوں کو کب تک نشانہ بناتے رہیں گے؟،علامہ طاہراشرفی

لاہور (جانو ڈاٹ پی کے)’افغانستان میں موجود دہشت گرد پاکستانیوں کا خون بہا رہے ہیں‘، طاہر اشرفی کا سخت بیان، کوہاٹ حملے کے بعد افغان سرزمین کے استعمال پر سوال اٹھا دیا
پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد پاکستان کے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ پاکستان طویل عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔
لاہور میں ازبکستان کے صحافیوں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ قومی پیغام امن کمیٹی ملک بھر میں امن، محبت، رواداری، باہمی احترام اور قومی وحدت کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ علماء و مشائخ نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف اختیار کیا اور خودکش حملوں، بم دھماکوں اور بے گناہ افراد کے قتل کی مذمت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف فتاویٰ اور آگاہی کے ذریعے کردار ادا کیا۔
حافظ طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ افغانستان پاکستان کا پڑوسی ملک ہے اور پاکستان نے چار دہائیوں سے زائد عرصے تک افغان عوام کی میزبانی کی، تاہم ان کے مطابق افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر پاکستان میں شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کوہاٹ کے حالیہ دہشت گرد حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حملے میں ملوث ایک خودکش حملہ آور کی افغان شہری کے طور پر شناخت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سرکاری ریڈیو کے مطابق حملے کے خودکش بمبار کی شناخت افغان شہری کے طور پر کی گئی ہے، جبکہ پولیس کے مطابق حملے کے ممکنہ افغان رابطے کی تحقیقات جاری ہیں۔
طاہر اشرفی نے سوال اٹھایا کہ افغانستان سے دہشت گرد پاکستان آکر بچوں اور بے گناہ شہریوں کو کب تک نشانہ بناتے رہیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے علماء و مشائخ دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف قومی بیانیے کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار جاری رکھیں گے۔



