​بڑا سر اور چھوٹی عقل: ٹرمپ کا امریکہ

​تحریر: وائل قندیل

(وائل قندیل ایک ممتاز مصری صحافی، کالم نگار اور بین الاقوامی اخبار ‘العربی الجدید’ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ اپنے بے باک سیاسی تجزیوں اور کاٹ دار قلم کی وجہ سے عالمِ عرب میں خاصی شہرت رکھتے ہیں)

​ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم وائٹ ہاؤس کو دنیا کے سب سے بڑے "عبث تھیٹر” (Absurd Theatre) میں بدلنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ اب حال یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر لوگوں کے لیے امریکی صدر کی باتوں کو سنجیدہ سیاسی گفتگو سمجھنا محال ہو گیا ہے۔ ان کے بیانات دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے کوئی "مونو لاجسٹ” اسٹیج پر مائیک تھامے کھڑا ہو اور دن میں کئی کئی بار محض لطیفے سنا کر لوگوں کو محظوظ کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔

​حیرت کی بات تو یہ ہے کہ یہ "ٹرمپی کیفیت” ان تمام لوگوں پر طاری ہو چکی ہے جو ایران کے خلاف ان کی جارحیت کی تائید کرتے ہیں۔ ان میں وہ نظامِ حکومت بھی شامل ہیں جو ٹرمپ کی غلامی اور ان کی خواہشات کے آگے سرِ تسلیم خم کیے بغیر اپنی بقا کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ساتھ ہی وہ نام نہاد "سیاسی تجزیہ نگار” بھی ہیں جنہوں نے تجزیہ کاری کے بجائے ٹرمپ کے ہر قول و فعل کی پرستش شروع کر دی ہے۔ ان کے نزدیک ٹرمپ کی عسکری طاقت کے سامنے کھڑا ہونا گناہِ کبیرہ ہے، اور وہ ٹرمپ کی ہر دیوانگی پر "حکمت” کا غلاف چڑھانے اور ان کی ہر حماقت کو کائنات کی ضرورت ثابت کرنے میں جتے ہوئے ہیں۔

​ٹرمپ کی اس "دیوانگی نما منطق” کا عکس ان کے وزیرِ جنگ (وزیر دفاع) میں بھی نظر آتا ہے، جو تکبر اور ہذیان گوئی میں اپنے صدر سے مقابلہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ دنیا کو امریکہ کی جاگیر سمجھتے ہیں جسے جب چاہیں توڑیں اور جب چاہیں جوڑ دیں۔ ان کے نزدیک جزا و سزا اور عطا و محرومی کے تمام اختیارات واشنطن کے پاس ہیں؛ گویا (نعوذ باللہ) زندگی اور موت بھی ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے۔

​یہی تکبر ان لوگوں میں بھی نظر آتا ہے جو عرب ٹی وی چینلز پر امریکی جرائم کے اس "مقدس عقیدے” کی مارکیٹنگ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک صاحب جو عرصہ دراز سے الجزیرہ کے اسٹوڈیو میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں (کبھی نیوز ویک کے نائب مدیر تو کبھی سیاسی کالم نگار بن کر)، ان کی گفتگو سن کر تو امریکہ کے نامور تعلیمی نظام کے معیار سے ہی بھروسہ اٹھ جاتا ہے۔ وہ صاحب اس طرح بولتے ہیں جیسے براہِ راست ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” کی تحریریں رٹ کر آئے ہوں۔

​حال ہی میں جب ایک ایرانی نژاد امریکی صحافیہ نے ٹرمپ کے مذاکراتی اسلوب اور اداروں کو بائی پاس کرنے پر سادہ سے سوالات اٹھائے، تو مذکورہ "کالم نگار” صاحب ٹرمپ کا روپ دھار کر ان پر پل پڑے۔ انہوں نے صحافیہ پر ڈیموکریٹس (جنہیں ٹرمپ غدار کہتے ہیں) کی زبان بولنے کا الزام لگایا اور آخر میں انہیں ان کے اصل ملک (ایران) کی ایجنٹ قرار دے دیا۔

​یہ جذباتی اور ہیجانی انداز ٹرمپ کے اس مسلسل ہذیان سے الگ نہیں ہے جو وہ ایران کے بارے میں پھیلاتے رہتے ہیں۔ کبھی وہ کہتے ہیں کہ "ہم انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے”، اور کبھی کہتے ہیں کہ "وہ ایک عظیم قوم ہے جسے ہم خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں”۔ کبھی وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ "میں نے انہیں 60 دنوں میں بیس بار شکست دی”، اور کبھی "آبنائے ہرمز” پر قبضہ کر کے اس کا نام "ٹرمپ ہرمز” رکھنے کی جنونی خواہش کرتے ہیں۔

​یہ وہ رویہ ہے جس نے ایک طرف دنیا کو ہنسنے پر مجبور کر دیا ہے اور دوسری طرف ٹرمپ کی ذہنی صحت پر شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔ یہ معاملہ اس حد تک سنگین ہو چکا ہے کہ امریکی کانگریس میں بھی ان کے ذہنی توازن پر بحث ہو رہی ہے۔ گزشتہ اپریل میں جب وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے ایک رکنِ پارلیمان نے براہِ راست پوچھا کہ "کیا آپ کے خیال میں ٹرمپ ذہنی طور پر اتنے مستحکم ہیں کہ افواج کی قیادت کر سکیں؟” تو وزیر موصوف بجائے تسلی بخش جواب دینے کے، غصے میں آپے سے باہر ہو گئے اور الٹا سوال کر دیا کہ "کیا آپ نے جو بائیڈن سے بھی یہی پوچھا تھا؟”

​یہ وہی فکری افلاس ہے جو ٹرمپ کے پورے خطاب پر حاوی ہے۔ جب آپ ان سے قانون کے احترام کا پوچھتے ہیں، تو وہ طاقت کی تقدیس کا راگ الاپتے ہیں۔ جب آپ ملکوں کی آزادی کی بات کرتے ہیں، تو وہ جواب دیتے ہیں کہ "فلاں ملک کے پاس اتنی دولت ہے کہ وہاں حملہ کرنا، اسے لوٹنا اور اس کی قیادت کو قتل کرنا عین جائز ہے”۔

​بڑا سر اور چھوٹی عقل… یہی وہ جنون ہے جو امریکہ کو اس کے انجام کی طرف لے جائے گا۔

مزید خبریں

Back to top button