پلگ اینڈ پلے سولر سسٹمز: بجلی کے بھاری بلوں سے نجات کا فارمولا بن سکتے ہیں یا نہیں؟

​نہال معظم:

​پاکستان میں بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافے اور گردشی قرضوں کے بوجھ نے عام شہری سے لے کر صنعت کار تک ہر طبقے کو متبادل توانائی کی تلاش پر مجبور کر دیا ہے۔ توانائی کا بحران اب ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔حالیہ چند رپورٹس یہ واضح کرتی ہیں کہ شمسی توانائی اب محض ایک عیاشی نہیں بلکہ ضرورت بن چکی ہے۔ تاہم، پاکستان کے مخصوص جغرافیائی اور معاشی حالات میں یہ سوال نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ کیا محض سولر پینلز پر انحصار کر کے ایک عام گھرانہ اپنی تمام تر ضروریات پوری کر سکتا ہے یا یہ محض ایک جزوی حل ہے۔

​پاکستان میں سولر سسٹم کی افادیت کا براہ راست تعلق ملک کے موسم اور یہاں استعمال ہونے والے برقی آلات کی نوعیت سے ہے۔ یورپ کے برعکس، جہاں زیادہ تر توانائی حرارت پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، پاکستان میں بجلی کا سب سے بڑا حصہ ایئر کنڈیشنرز، واٹر پمپ (موٹر) اور ریفریجریٹرز کے استعمال میں صرف ہوتا ہے۔ ایک اوسط پاکستانی گھرانے میں گرمیوں کے دوران بجلی کا بوجھ 3 کلو واٹ سے 10 کلو واٹ تک جا پہنچتا ہے۔ ایسی صورتحال میں ‘پلگ اینڈ پلے’ (Plug-in) یا چھوٹے سولر سسٹم صرف دن کے وقت بیس لوڈ یعنی پنکھوں اور لائٹوں کی حد تک تو مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن استری، اے سی اور پانی کی موٹر جیسے بھاری آلات کے لیے ایک بڑے اور منظم سسٹم کی ضرورت ہوتی ہے۔

​اس ضمن میں ‘پلگ اینڈ پلے’ سسٹمز کی سہولت اور فوائد کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ یہ سسٹمز اپنی آسان تنصیب کی وجہ سے مقبول ہو رہے ہیں کیونکہ ان کے لیے کسی ماہر الیکٹریشن یا بھاری وائرنگ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسے محض بالکونی یا کھڑکی کے پاس رکھ کر گھر کے عام ساکٹ میں لگایا جاتا ہے۔ خاص طور پر شہروں میں اپارٹمنٹس اور کرائے کے گھروں میں رہنے والوں کے لیے یہ ایک نعمت ہے، کیونکہ اسے گھر بدلتے وقت آسانی سے ساتھ لے جایا جا سکتا ہے۔ معاشی طور پر یہ سسٹم گھر کے ‘بیس لوڈ’ کو سنبھال کر ماہانہ بلوں میں فوری کمی لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

​تاہم، جہاں اس کے فوائد ہیں، وہیں کچھ سنگین حدود اور نقصانات بھی موجود ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ محدود پیداوار ہے؛ یہ سسٹمز عموماً 300 سے 800 واٹ کے ہوتے ہیں، جو استری یا پانی کی موٹر جیسے ہائی وولٹیج آلات چلانے کے لیے بالکل ناکافی ہیں۔ دوسرا بڑا چیلنج توانائی کا ذخیرہ ہے۔ زیادہ تر پلگ ان سسٹمز بغیر بیٹری کے آتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کے دوران یہ سسٹم کام کرنا چھوڑ دیں گے کیونکہ انہیں فعال رہنے کے لیے گرڈ کی بجلی سے ہم آہنگ ہونا پڑتا ہے۔ مزید برآں، پاکستان میں گھروں کی پرانی وائرنگ ایک بڑا حفاظتی خطرہ بن سکتی ہے، جہاں ‘ارتھنگ’ نہ ہونے کی صورت میں شارٹ سرکٹ یا ریورس فیڈ کا خدشہ رہتا ہے۔

​پاکستانی صارفین کے لیے سب سے بڑا چیلنج سورج کی دستیابی نہیں بلکہ توانائی کا ذخیرہ (Storage) ہے۔ یہ چھوٹے پینلز دن کے وقت تو ریفریجریٹر کا بوجھ اٹھا لیتے ہیں، لیکن پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کے اوقات اور رات کے وقت بجلی کے استعمال کے پیشِ نظر صرف پینلز پر انحصار کرنا ممکن نہیں۔ یہاں بیٹریوں کی قیمتیں اور ان کی محدود زندگی ایک بڑا مالی بوجھ بن جاتی ہیں۔ اس وقت مارکیٹ میں لیتھیم آئن بیٹریوں کا رجحان بڑھ رہا ہے جو طویل مدتی حل تو ہیں لیکن ان کی ابتدائی قیمت ایک عام شہری کی پہنچ سے باہر ہے۔ اس کے باوجود، اگر کوئی گھرانہ 5 سے 10 کلو واٹ کا ہائبرڈ سسٹم نصب کرتا ہے، تو وہ 80 فیصد تک اپنی بجلی کی ضروریات میں خود کفیل ہو سکتا ہے۔

​معاشی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان میں سولر سسٹم پر لگائی گئی رقم اب محض 3 سے 4 سال میں وصول (Payback) ہو رہی ہے۔ سولر پینلز کی قیمتوں میں حالیہ عالمی کمی نے پاکستانی مارکیٹ میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ لیکن یہاں ایک اہم تکنیکی پہلو ‘سولر پینلز کی کوالٹی’ اور ‘انسٹالیشن’ کا ہے۔ غیر معیاری وائرنگ اور سستے انورٹرز نہ صرف پینلز کی کارکردگی کو 30 فیصد تک کم کر دیتے ہیں بلکہ شارٹ سرکٹ کے خطرات کو بھی جنم دیتے ہیں۔

​پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بجلی کے بڑھتے ہوئے یونٹ نرخوں کے پیشِ نظر، سولر سسٹم اب ایک مالیاتی دفاعی ڈھال بن چکا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ چھوٹے پیمانے پر ‘پلگ ان’ سسٹمز کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کرے تاکہ وہ طبقہ جو لاکھوں کے سسٹم نہیں لگا سکتا، وہ بھی فائدہ اٹھا سکے۔ حتمی طور پر، پاکستان میں سولر پینلز پر مکمل انحصار ممکن تو ہے، لیکن اس کے لیے درست ڈیزائن، معیاری آلات اور توانائی کے سلیقے سے استعمال کی شرط لازم ہے۔ اگر ان اصولوں پر عمل کیا جائے تو شمسی توانائی نہ صرف انفرادی بچت بلکہ قومی سطح پر بجلی کے بحران کے خاتمے کا واحد پائیدار راستہ ہے۔

مزید خبریں

Back to top button