​سمندری لٹیرے پھر لوٹ آئے: صومالی قزاقوں کے نرغے میں پھنسے پاکستانی یرغمالیوں کی دہائی

نہال معظم:

​بحری قزاقی کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنا کہ سمندروں کے ذریعے انسانی تجارت کا سلسلہ، مگر صومالیہ کے ساحلوں پر اس فتنے نے اکیسویں صدی کے آغاز میں ایک ایسی دہشت ناک شکل اختیار کی جس نے عالمی معیشت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ نوے کی دہائی میں صومالیہ میں مرکزی حکومت کے خاتمے اور خانہ جنگی کے بعد جب وہاں کے سمندری حدود کی حفاظت کرنے والا کوئی نہ رہا، تو دوسرے ممالک کے بڑے بڑے ٹرالرز نے صومالی پانیوں میں آ کر غیر قانونی طور پر مچھلیاں پکڑنا شروع کر دیں۔ اس غیر قانونی شکار نے مقامی صومالی ماہی گیروں کا روزگار ختم کر دیا، جس نے انہیں ہتھیار اٹھانے اور جہازوں پر حملے کرنے پر مجبور کیا اور وہ آج بھی اپنی ان کارروائیاں کو اپنے وسائل کا "دفاع” قرار دیتے ہیں۔ صرف یہی نہیں، بلکہ ایک بڑا الزام یہ بھی ہے کہ کچھ بین الاقوامی کمپنیاں صومالیہ کے ساحلوں پر ایٹمی یا زہریلا فضلہ ٹھکانے لگاتی رہی ہیں جس سے وہاں بیماریاں پھیلیں اور سمندری حیات تباہ ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ قزاقوں کا دعویٰ ہے کہ وہ ان کمپنیوں سے محض "جرمانہ” وصول کرتے ہیں۔

​سن 2005 سے 2012 تک کا دور صومالی قزاقوں کے عروج کا وقت تھا جب بحیرہ عرب اور خلیج عدن سے گزرنے والا ہر جہاز ان کے نشانے پر تھا۔ اسی دور میں نومبر 2010 میں "ایم وی البیڈو” کا وہ لرزہ خیز واقعہ پیش آیا جسے پاکستانی قوم کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ اس جہاز پر سوار عملہ تقریباً پونے چار سال یعنی 44 طویل مہینوں تک قزاقوں کی وحشیانہ قید میں رہا۔ وہ چار سال پاکستانی ملاحوں اور ان کے خاندانوں کے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھے، جہاں بھاری تاوان کے لیے ان پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے گئے۔ اس فتنے کو کچلنے کے لیے نیٹو اور پاکستان سمیت کئی ممالک کی بحری افواج نے مشترکہ ٹاسک فورسز تشکیل دیں اور سمندروں میں مسلسل گشت شروع کیا، جس کے نتیجے میں کئی برسوں تک یہ قزاقی تقریباً ختم ہو کر رہ گئی تھی۔ مگر آج ایک بار پھر صومالیہ کے ساحلوں سے آنے والی خبریں پریشان کن ہیں کیونکہ قزاقوں نے دوبارہ سر اٹھا لیا ہے اور حالیہ دنوں میں کئی بحری جہازوں کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ ان لٹیروں کے لیے بحری جہاز ایک "چلتا پھرتا بینک” ہوتے ہیں جنہیں لوٹ کر وہ اپنی تجوریاں بھرتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ عالمی توجہ غزہ کی صورتحال اور بحیرہ احمر میں حوثی باغیوں کے حملوں کی طرف مبذول ہونے کا فائدہ اٹھا کر صومالی قزاقوں نے اپنے نیٹ ورک دوبارہ فعال کر لیے ہیں۔ اس وقت بحری سفر کے لیے خطرے کی سطح کو انتہائی بلند کر دیا گیا ہے کیونکہ اکثر نجی کمپنیاں اخراجات بچانے کے لیے ان خطرناک علاقوں سے گزرتے وقت نجی سیکیورٹی گارڈز نہیں رکھتیں، جس کا خمیازہ نہتے عملے کو بھگتنا پڑتا ہے۔

​پاکستانی قوم کے لیے یہ خبریں اس لیے بھی زیادہ تکلیف دہ ہیں کیونکہ حالیہ اغوا ہونے والے آئل ٹینکر "آنر 25” پر سوار عملے میں 10 پاکستانی ملاح بھی شامل ہیں جو اس وقت قزاقوں کی قید میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔ پاکستانی کیڈٹس اور کریو ممبرز اپنی بہترین پیشہ ورانہ مہارت کی وجہ سے دنیا بھر کی یونانی، مانی اور لائبیریائی شپنگ کمپنیوں میں کام کرتے ہیں، اسی لیے جب ان کمپنیوں کے جہاز اغوا ہوتے ہیں تو عملے میں پاکستانی ملاح بھی بڑی تعداد میں شامل ہوتے ہیں۔ ان قزاقوں کے لیے یہ ملاح انسان نہیں بلکہ محض ایک سودا بازی کا ذریعہ ہوتے ہیں جن کے عوض وہ بین الاقوامی کمپنیوں سے کروڑوں ڈالر تاوان بٹورنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے کام کرنے کا طریقہ کار انتہائی پیشہ ورانہ ہے، یہ لوگ براہِ راست کسی سے بات نہیں کرتے بلکہ انہوں نے بیرون ملک پڑھے لکھے ترجمان اور مڈل مین رکھے ہوئے ہیں جو قانونی پیچیدگیوں سے بچتے ہوئے انشورنس کمپنیوں سے انگریزی میں سودے بازی کرتے ہیں۔

​قزاقوں سے رابطے کا عمل عموماً سیٹلائٹ فون کے ذریعے شروع ہوتا ہے اور پھر یہ مذاکرات مہینوں بلکہ برسوں تک طول پکڑ جاتے ہیں۔ جیسے ہی جہاز اغوا ہوتا ہے، انشورنس کمپنیاں پیشہ ور مذاکرات کاروں کی خدمات لیتی ہیں جو اکثر سابق فوجی یا انٹیلیجنس افسران ہوتے ہیں۔ یہ ماہرین قزاقوں کی نفسیات کو بخوبی سمجھتے ہیں اور ان کا کام تاوان کی رقم کو کم سے کم کروانا اور عملے کی سلامتی یقینی بنانا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی جب حکومتیں یا خاندان براہِ راست رابطہ نہیں کر پاتے، تو صومالیہ کے مقامی قبائلی عمائدین کو بھی بیچ میں ڈالا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے اثر و رسوخ سے راستہ نکال سکیں۔ جب تاوان کی بھاری رقم طے پا جاتی ہے، تو یہ کسی بینک اکاؤنٹ میں نہیں جاتی بلکہ اسے واٹر پروف بیگ میں بھر کر ہیلی کاپٹرز کے ذریعے سمندر میں جہاز کے قریب گرایا جاتا ہے۔ رقم کی تصدیق کے بعد ہی ملاحوں کو رہائی نصیب ہوتی ہے۔ آج جب دوبارہ ہمارے پاکستانی بیٹے ان وحشی صیادوں کے قبضے میں ہیں، تو پوری قوم کی نظریں ان کی بحفاظت واپسی پر لگی ہوئی ہیں۔ یہ صورتحال عالمی طاقتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ اس سے پہلے کہ یہ قزاقی دوبارہ ایک بے قابو طوفان بن جائے، اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں اور پاکستانی شہریوں سمیت تمام ملاحوں کی سمندری گزرگاہوں پر سلامتی کو یقینی بنائیں۔

مزید خبریں

Back to top button