پتھر کا دور، تب بھی ایران استاد تھا، ٹرمپ کی دھمکی کا تاریخی پوسٹ مارٹم

نہال معظم:
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو "پتھر کے زمانے” میں پہنچانے کی دھمکی دراصل اس تاریخی لاعلمی کا شاخسانہ ہے جو اکثر جدید طاقتوں کو اپنے عروج کے نشے میں لاحق ہو جاتی ہے۔ یہ کہنا کہ ایک ایسی تہذیب کو پتھر کے دور میں دھکیل دیا جائے گا جس نے انسانیت کو پتھروں سے تمدن تراشنا سکھایا، خود اپنی جگہ ایک لطیفہ ہے۔ جس وقت امریکہ کے جغرافیے پر تہذیب کا نام و نشان تک نہ تھا، اس وقت ایران کی ہخامنشی سلطنت تین براعظموں پر محیط دنیا کی پہلی باقاعدہ سپر پاور بن چکی تھی۔
اس عظیم سلطنت کی بنیادوں میں کوروش اعظم (سائرس اعظم) کا وہ سیاسی و اخلاقی ڈھانچہ موجود تھا جس کی مثال آج بھی جدید ترین جمہوریتوں کے دستور میں ڈھونڈی جاتی ہے۔
جب وائٹ ہاؤس کے مکین پتھر کے دور کی بات کرتے ہیں، تو شاید وہ بھول جاتے ہیں کہ ایران کے پاس "سائرس سلنڈر” کی صورت میں انسانی حقوق کا وہ پہلا عالمی منشور تب سے موجود ہے جب دنیا کے باقی حصوں میں "جس کی لاٹھی اس کی بھینس” کا قانون رائج تھا۔ یہ وہ دور تھا جب ایران نے بابل فتح کر کے غلاموں کو نہ صرف رہا کیا بلکہ انہیں مذہبی آزادی دے کر عالمی سیاست میں عدل و انصاف کی بنیاد رکھی۔
ایران کی قدامت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جب یورپ کے بڑے حصے گھنے جنگلات میں گھرے تھے اور وہاں کے باسی غاروں میں پناہ تلاش کر رہے تھے، اس وقت ایران میں "چاپار خانہ” کے نام سے دنیا کا پہلا منظم ڈاک کا نظام کام کر رہا تھا۔ دارا اعظم کے قاصد شاہراہِ شاہی (Royal Road) پر گھوڑوں پر سوار ہو کر ہزاروں میل کا فاصلہ چند دنوں میں طے کر لیتے تھے، جو کہ اس زمانے کی "ہائی سپیڈ انٹرنیٹ” جیسی سہولت تھی۔ آج کی جدید دنیا جس انتظامی ڈھانچے پر فخر کرتی ہے، اس کی ابتدائی شکلیں ایرانی صوبوں (Satrapy) کے نظام میں ملتی ہیں، جہاں مرکزی حکومت اور مقامی خود مختاری کا بہترین توازن قائم کیا گیا تھا۔ یہ وہ ریاست تھی جس نے دنیا کو بتایا کہ ایک وسیع و عریض جغرافیے کو نظم و ضبط کے تحت کیسے لایا جاتا ہے۔
تکنیکی مہارت اور انجینئرنگ کے میدان میں بھی ایران کا ماضی حیران کن حد تک ترقی یافتہ رہا ہے۔ جس دور میں دنیا پانی کی بوند بوند کے لیے قدرت کی محتاج تھی، ایرانیوں نے "قنات” جیسا زیرِ زمین آبپاشی کا نظام وضع کیا، جو میلوں دور سے صحراؤں کے سینے میں پانی پہنچاتا تھا۔ یہ وہ انجینئرنگ تھی جس نے بنجر زمینوں کو گلستان بنا دیا اور جس کی باقیات آج بھی جدید ماہرینِ تعمیرات کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ "بادگیر” یعنی قدیم ایئر کنڈیشنگ نظام، جو تپتے ہوئے صحرا کی ہوا کو عمارتوں کے اندر ٹھنڈا کر کے پہنچاتا تھا، اس بات کا ثبوت ہے کہ ایرانیوں نے فطرت کو مسخر کرنا تب سیکھ لیا تھا جب دنیا کے بیشتر حصوں میں انسان ابھی موسموں کی شدت کے سامنے بے بس تھا۔
ٹرمپ صاحب کی دھمکی اس لیے بھی بے وزن معلوم ہوتی ہے کہ ایران کی بقا کا راز اس کی جغرافیائی سرحدوں سے زیادہ اس کی ثقافتی اور فکری جڑت میں ہے۔ ایران وہ سرزمین ہے جس نے سکندرِ اعظم کی یلغار سے لے کر منگولوں کے طوفان تک، ہر صدمے کو نہ صرف سہا بلکہ حملہ آوروں کو اپنی تہذیب کے رنگ میں رنگ دیا۔ فردوسی کا "شاہنامہ” اس وقت لکھا گیا جب انگریزی زبان ابھی اپنے وجود کی جدوجہد کر رہی تھی۔ سعدی کی حکمت اور حافظ کا فلسفہ وہ فکری میزائل ہیں جن کا توڑ کسی ڈیفنس سسٹم کے پاس نہیں۔ ایران کی تزویراتی اہمیت کا یہ عالم ہے کہ وہ آبنائے ہرمز جیسے عالمی تجارتی شہ رگ کا محافظ ہے، جہاں سے پوری دنیا کی توانائی کی ترسیل وابستہ ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جو مشرق اور مغرب کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے اور جس کی تاریخ میں رومیوں جیسی عظیم سلطنتوں کے ساتھ برابری کی سطح پر ٹکرانے کی داستانیں رقم ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ سلطنتیں آتی جاتی رہتی ہیں، مگر تمدن کبھی ختم نہیں ہوتا۔ ایران کوئی حادثاتی طور پر بنا ہوا ملک نہیں بلکہ ایک مسلسل رہنے والی تہذیب کا نام ہے۔ جب کوئی نو مولود طاقت کسی ایسی قوم کو ماضی بعید میں دھکیلنے کا دعویٰ کرتی ہے جس نے انسانیت کو شاہراہیں، قانون، فنِ تعمیر اور شاعری کا ذوق دیا ہو، تو یہ دعویٰ مضحکہ خیز ہی لگتا ہے۔ ایران نے وقت کے بڑے بڑے فرعونوں کو مٹی ہوتے دیکھا ہے اور خود اپنی جگہ مضبوطی سے قائم رہا ہے۔ لہٰذا، پتھر کے زمانے کی دھمکی اس قوم کو دینا جس نے پتھروں کو زبان دے کر "تختِ جمشید” کھڑا کیا، صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ دھمکی دینے والا تاریخ کے سبق سے ناواقف ہے۔ ایران کی اصل طاقت اس کی وہ فکری وراثت ہے جو اسے ہر دور میں مغلوب ہونے کے بجائے ایک نئی قوت کے ساتھ ابھرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔



