ایشین ٹائیگربمقابلہ ایشین ٹائیگرس،30ہزار بانجھ شکاریوں کی خود کو ہی شکار کرنے کی ہنی ٹریپ جنگ!

نہال معظم
دنیا بھر میں اس وقت سرحدوں پر میزائلوں، بارود اور گولیوں کی آوازیں گونج رہی ہیں، حکومتیں ایک دوسرے کے خلاف جنگی سازوسامان سجائے بیٹھی ہیں اور ہر طرف خوف و دہشت کا سایہ ہے، مگر انسانیت کی بقا کی ایک سب سے انوکھی جنگ اس شور و شرابے سے دور لیبارٹریوں کی خاموشی میں لڑی جا رہی ہے جس کا میدان اب پرتگال کا شہر لزبن بن چکا ہے۔ یہ کوئی روایتی جنگ نہیں بلکہ ایک ایسا سائنسی معرکہ ہے جہاں دشمن کو ختم کرنے کے لیے ہتھیاروں کی نہیں بلکہ فریب اور فطرت کے ایک انوکھے دھوکے کی مدد لی جا رہی ہے، جہاں یہ جنگ ہنی ٹریپ کے ذریعے لڑی جائے گی اور سپاہی خود اپنی تباہی کے لیے میدان میں اتریں گے۔
اس انوکھی جنگ کے لیے یورپ کے دل لزبن کی فضاؤں میں حال ہی میں جو تیس ہزار سپاہی اتارے گئے ہیں ان کا تعلق Aedes albopictus (ایڈیز ایلوبوپیٹس) نامی نسل سے ہے، جنہیں عام طور پر ایشین ٹائیگر مچھر (Asian Tiger Mosquito) کہا جاتا ہے۔ یہ وہی مہلک نسل ہے جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریاں پھیلانے کا باعث بنتی ہے۔ اس تجربے میں انہی مچھروں کے بانجھ (Sterile) نر فضا میں چھوڑے گئے ہیں تاکہ ان کی افزائشِ نسل کو روکا جا سکے۔ یہ سب کے سب نر مچھر ہیں جو کاٹنے کی صلاحیت سے یکسر عاری ہیں کیونکہ قدرت نے خون چوسنے کا یہ ہنر صرف مادہ مچھروں کو بخشا ہے جنہیں اپنے انڈوں کی پرورش کے لیے پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے۔
سائنسدان اس جدید اور مؤثر تکنیک کو "Sterile Insect Technique” (SIT) کہتے ہیں، جس میں لیبارٹری کے اندر خاص طور پر اسی نسل کے نر مچھروں کو بانجھ بنایا جاتا ہے اور پھر انہیں ماحول میں آزاد کر دیا جاتا ہے۔ اس انوکھے حیاتیاتی حربے کا اصل معمہ مادہ اور نر مچھروں کے فطری ملاپ پر ٹکا ہوا ہے۔ جب یہ لیبارٹری کے تربیت یافتہ اور بانجھ نر مچھر آزادی کا سانس لیتے ہوئے جنگلی ماحول میں موجود مادہ مچھروں یعنی ایشین ٹائیگرس” مچھرنیوں” کے ساتھ میل جول بڑھاتے ہیں تو فطرت کا ایک نیا اور انوکھا کھیل سامنے آتا ہے۔ مادہ مچھر تو پوری امید کے ساتھ انڈے دیتی ہے مگر بانجھ پن کی وجہ سے وہ تمام انڈے ناکارہ ہو جاتے ہیں اور ان سے کوئی نئی نسل جنم نہیں لے پاتی۔ یوں بغیر کسی زہریلے کیمیکل کے استعمال یا ماحول کو نقصان پہنچائے قدرت کے اپنے ہی نظام کو بروئے کار لاتے ہوئے ان مہلک مچھروں کی آبادی کو اندر ہی اندر گھلا کر ختم کر دیا جاتا ہے۔
پرتگال کے علاقے الوالادے میں کی جانے والی یہ پیش رفت اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ انسان اب کیڑے مار ادویات کے سائیڈ ایفیکٹس سے آگے نکل کر ماحول دوست اور پائیدار حل کی طرف قدم بڑھا رہا ہے۔ جب سائنس اور فطرت ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلتی ہیں تو تیس ہزار بے ضرر نر مچھروں کی یہ فوج لزبن کی گلیوں میں خاموشی سے ایک ایسی جنگ لڑ نے جا رہی ہے جو آنے والے کل میں پوری انسانیت کو جان لیوا بیماریوں کے حصار سے آزاد کرانے کی نوید سنا رہی ہے۔



