مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کی غنڈہ گردی، امریکی خاتون صحافی کے بعد یورپی سفارت کار بھی نشانے پر

مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کی جانب سے تشدد کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں زیتون کی فصل کی کٹائی کے موقع پر دورے پر آئے یورپی سفارت کاروں کی گاڑیوں کو گھیرے میں لے کر پتھراؤ کیا گیا، جبکہ بیلجیئم کے قونصل خانے کی ایک گاڑی کی کھڑکی بھی توڑ دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ایک امریکی خاتون صحافی کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی آرمی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق فرانس، بیلجیئم اور پولینڈ کے سفارت کار فلسطینی کسانوں کے ساتھ زیتون کی فصل کی کٹائی کے موقع پر علاقے کے دورے پر تھے کہ تقریباً سات نقاب پوش آبادکار اے ٹی وی گاڑیوں پر وہاں پہنچ گئے۔ انہوں نے سفارتی گاڑیوں کو گھیرے میں لیا اور ان میں سوار افراد سے شناختی دستاویزات طلب کیں۔
رپورٹ کے مطابق ایک سفارتی گاڑی پر پتھراؤ کیا گیا، جس سے اس کی کھڑکی ٹوٹ گئی۔ اسرائیلی آرمی ریڈیو کی جانب سے نشر کی گئی ویڈیو میں ایک سفارت کار کو زمین پر لیٹے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
مغربی کنارے میں زیتون کی فصل کی کٹائی فلسطینی کسانوں کے لیے نہایت اہم معاشی اور سماجی سرگرمی ہے۔ تاہم، اس موسم میں فلسطینی کسانوں اور اسرائیلی آبادکاروں کے درمیان کشیدگی اور مبینہ حملوں کے واقعات بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ سفارت کاروں پر اس حملے کی تفصیلات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی سے متعلق مزید معلومات سامنے آنا باقی ہیں۔



